حدیث نمبر: 1782
«إن الله تعالى قال: من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلى مما افترضته عليه وما يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه فإذا أحببته كنت سمعه الذي يسمع به وبصره الذي يبصر به ويده التي يبطش بها ورجله التي يمشي بها وإن سألني لأعطينه وإن استعاذني لأعيذنه وما ترددت عن شيء أنا فاعله ترددي عن قبض نفس المؤمن يكره الموت وأنا أكره مساءته»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس نے میرے کسی ولی (دوست) سے دشمنی رکھی، تو میں نے اسے جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ اور میرا بندہ کسی ایسی چیز کے ذریعے میرا قرب حاصل نہیں کرتا جو مجھے ان چیزوں سے زیادہ پسند ہو جو میں نے اس پر فرض کی ہیں، اور میرا بندہ مسلسل نفلی عبادات کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پس جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کے وہ کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، اس کی وہ آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کا وہ پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے (یعنی اس کے اعضاء میری مرضی کے تابع ہو جاتے ہیں)۔ اور اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں۔ اور مجھے کسی کام کے کرنے میں اتنا تردد (ہچکچاہٹ) نہیں ہوتا جتنا مومن کی جان قبض کرنے میں ہوتا ہے، وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اسے تکلیف دینا ناپسند ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1782
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. الطحاوية ٧٥٣، الصحيحة ١٦٤٠: حل، هق١.