حدیث نمبر: 1773
"إن الله زوى لي الأرض فرأيت مشارقها ومغاربها وإن ملك أمتي سيبلغ ما زوي لي منها وإني أعطيت الكنزين الأحمر والأبيض وإني سألت ربي لأمتي أن لا يهلكوا بسنة عامة ولا يسلط عليهم عدوا من سوى أنفسهم فيستبيح بيضتهم وإن ربي عز وجل قال: يا محمد إني إذا قضيت قضاء فإنه لايرد وإني أعطيتك لأمتك أن لا أهلكهم بسنة عامة وأن لا أسلط عليهم عدوا من سوى أنفسهم فيستبيح بيضتهم ولو اجتمع عليهم من بين أقطارها حتى يكون بعضهم يفني بعضا وإنما أخاف على أمتي الأئمة المضلين وإذا وضع في أمتي
السيف لم يرفع عنهم إلى يوم القيامة ولا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل من أمتي بالمشركين حتى تعبد قبائل من أمتي الأوثان وإنه سيكون في أمتي كذابون ثلاثون كلهم يزعم أنه نبي وأنا خاتم النبيين لا نبي بعدي ولا تزال طائفة من أمتي على الحق ظاهرين لا يضرهم من خالفهم حتى يأتي أمر الله"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرقوں اور مغربوں کو دیکھ لیا، اور یقیناً میری امت کی بادشاہت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک میرے لیے زمین سمیٹی گئی تھی۔ اور مجھے دو خزانے عطا کیے گئے، سرخ اور سفید (یعنی سونا اور چاندی یا روم و فارس کی حکومتیں)، اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے یہ دعا کی کہ انہیں کسی عام قحط سالی سے ہلاک نہ کیا جائے اور ان پر ان کے اپنوں کے سوا کوئی ایسا دشمن مسلط نہ کیا جائے جو ان کی مرکزیت کو تباہ کر دے۔ اور بے شک میرے رب عزوجل نے فرمایا: اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو اسے ٹالا نہیں جاتا، اور میں نے آپ کی امت کے لیے آپ کو یہ عطا کر دیا ہے کہ میں انہیں کسی عام قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا، اور ان پر ان کے اپنوں کے سوا کوئی ایسا دشمن مسلط نہیں کروں گا جو ان کی مرکزیت کو تباہ کر دے، خواہ دنیا کے تمام کناروں سے لوگ ان کے خلاف جمع ہو جائیں، یہاں تک کہ وہ خود ہی ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے۔ مجھے اپنی امت پر صرف گمراہ کرنے والے پیشواؤں (حکمرانوں اور عالموں) کا ڈر ہے، اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی (یعنی آپس میں خون ریزی شروع ہو جائے گی) تو پھر قیامت تک ان سے نہیں اٹھائی جائے گی۔ اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے نہ جا ملیں، یہاں تک کہ میری امت کے کچھ قبیلے بتوں کی پوجا کرنے لگیں گے۔ اور یقیناً میری امت میں تیس بہت بڑے جھوٹے پیدا ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1773
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ت هـ] عن ثوبان٢. الصحيحة ٢، ١٦٨٣.