حدیث نمبر: 1078
«اغزوا باسم الله وفي سبيل الله وقاتلوا من كفر بالله اغزوا ولا تغلوا ولا تغدروا ولا تمثلوا ولا تقتلوا وليدا وإذا لقيت عدوك من المشركين فادعهم إلى ثلاث خصال فأيتهن ما أجابوك فاقبل منهم وكف عنهم: ادعهم إلى الإسلام فإن أجابوك فاقبل منهم وكف عنهم ; ثم ادعهم أن التحول من دارهم إلى دار المهاجرين وأخبرهم أنهم إن فعلوا ذلك فلهم ما للمهاجرين وعليهم ما على المهاجرين فإن أبوا أن يتحولوا منها فأخبرهم أنهم يكونون كأعراب المسلمين يجري عليهم حكم الله الذي يجري على المؤمنين ولا يكون لهم في الغنيمة والفيء شيء إلا أن يجاهدوا مع المسلمين فإن هم أبوا فسلهم الجزية فإن هم أجابوك فاقبل منهم وكف عنهم فإن أبوا فاستعن بالله وقاتلهم وإذا حاصرت أهل حصن وأرادوك أن تجعل لهم ذمة الله وذمة نبيه فلا تجعل لهم ذمة الله ولا ذمة نبيه ولكن اجعل لهم ذمتك وذمة أصحابك فإنكم إن تخفروا ذممكم وذمم أصحابكم أهون من أن تخفروا ذمة الله وذمة رسوله وإذا حاصرت أهل الحصن فأرادوك أن تنزلهم على حكم الله فلا تنزلهم على حكم الله ولكن أنزلهم على حكمك فإنك لا تدري أتصيب حكم الله فيهم أم لا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کا نام لے کر اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کفر کرے اس سے قتال کرو۔ جہاد کرو مگر مالِ غنیمت میں خیانت نہ کرو، بدعہدی نہ کرو، لاشوں کا مثلہ (اعضاء کاٹ کر شکل بگاڑنا) نہ کرو، اور کسی بچے کو قتل نہ کرو۔ اور جب تمہارا مشرک دشمنوں سے سامنا ہو تو انہیں تین باتوں کی دعوت دو، ان میں سے وہ جو بھی تسلیم کر لیں اسے قبول کر لو اور ان سے (جنگ کرنے سے) رک جاؤ: سب سے پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو، اگر وہ مان لیں تو قبول کر لو اور ان سے جنگ نہ کرو؛ پھر انہیں اپنے علاقے چھوڑ کر مہاجرین کے علاقے کی طرف ہجرت کرنے کی دعوت دو، اور انہیں بتا دو کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو انہیں وہی حقوق حاصل ہوں گے جو مہاجرین کو حاصل ہیں اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں۔ اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کر دیں تو انہیں بتا دو کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح رہیں گے، ان پر اللہ کا وہی حکم نافذ ہوگا جو عام مومنوں پر ہوتا ہے، البتہ انہیں مالِ غنیمت اور مالِ فے میں سے کچھ نہیں ملے گا سوائے اس کے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں۔ اگر وہ (اسلام لانے سے بھی) انکار کر دیں تو ان سے جزیہ (ٹیکس) طلب کرو، اگر وہ مان جائیں تو قبول کر لو اور جنگ سے رک جاؤ۔ لیکن اگر وہ اس سے بھی انکار کر دیں تو اللہ سے مدد مانگو اور ان سے قتال کرو۔ اور جب تم کسی قلعے والوں کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے چاہیں کہ تم انہیں اللہ اور اس کے نبی کی پناہ (عہد و امان) دو، تو انہیں اللہ اور اس کے نبی کی پناہ ہرگز نہ دینا، بلکہ انہیں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی پناہ دینا، کیونکہ اگر تم سے اپنی یا اپنے ساتھیوں کی دی ہوئی پناہ ٹوٹ جائے تو یہ اس سے کہیں زیادہ ہلکا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑو۔ اور جب تم کسی قلعے کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ تم انہیں اللہ کے حکم پر اتارو، تو انہیں اللہ کے حکم پر نہ اتارنا بلکہ انہیں اپنے فیصلے پر اتارنا، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تم ان کے بارے میں اللہ کے (منشا اور) فیصلے تک پہنچ سکو گے یا نہیں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1078
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ٤] عن بريدة. الإرواء ١٢٤٧.