حدیث نمبر: 1045
"اعدد ستا بين يدي الساعة: موتي ثم فتح بيت المقدس ثم موتان يأخذ فيكم كقعاص الغنم، ثم استفاضة المال حتى يعطى الرجل مائة دينار فيظل ساخطا، ثم فتنة لا يبقى بيت من العرب إلا دخلته، ثم هدنة تكون بينكم وبين بني الأصفر فيغدرون فيأتونكم تحت ثمانين غاية تحت كل غاية اثنا عشر ألفا"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت برپا ہونے سے پہلے چھ نشانیوں کو شمار کر لو: میری وفات، پھر بیت المقدس کی فتح، پھر ایک ایسی ہلاکت خیز وبا جو تم میں اس طرح تیزی سے پھیلے گی جس طرح بکریوں میں بیماری پھیل کر انہیں مار ڈالتی ہے، پھر مال و دولت کی اتنی فراوانی ہو جائے گی کہ اگر کسی شخص کو سو دینار بھی دیے جائیں گے تو وہ اسے کم سمجھ کر ناراض ہی رہے گا، پھر ایک ایسا زبردست فتنہ نمودار ہوگا کہ عرب کا کوئی گھر ایسا نہیں بچے گا جس میں وہ داخل نہ ہو، پھر ایک صلح جو تمہارے اور بنو اصفر (رومیوں/عیسائیوں) کے درمیان ہوگی، لیکن وہ عہد شکنی کریں گے اور تم پر حملہ آور ہونے کے لیے اسّی (80) جھنڈوں تلے جمع ہو کر آئیں گے، اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار کی فوج ہوگی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1045
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن عوف بن مالك. فضائل الشام ص٢٣، شرح الطحاوية ٧٥٨.