❮
❯
985/1305 (حسن الإسناد موقوفاً) عن ابن أبي الهذيل قال: عاد عبد الله [هو ابن مسعود] رجلاً، ومعه رجل من أصحابه، فلما دخل الدار جعل صاحبه ينظر، فقال له عبد الله : "والله لو تفقأت عيناك كان خيراً لك".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابن ابی الہذیل سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کی عیادت کی، اور ان کے ساتھ ان کے ساتھیوں میں سے ایک آدمی تھا، جب وہ گھر میں داخل ہوئے تو ان کا ساتھی (ادھر ادھر) دیکھنے لگا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر تمہاری آنکھیں پھوٹ جاتیں تو یہ تمہارے لیے بہتر ہوتا۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 985
986/1036 (صحيح الإسناد) عن نافع: أن نفراً من أهل العراق دخلوا على ابن عمر، فرأوا على خادم لهم طوقاً من ذهب، فنظر بعضهم إلى بعض، فقال: "ما أفطنكم للشر؟".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
نافع سے روایت ہے کہ عراق کے کچھ لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، انہوں نے ان کے ایک خادم پر سونے کا طوق دیکھا تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، اس پر انہوں نے فرمایا: ”تم برائی کو کتنی جلدی بھانپ لیتے ہو!“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 986