931/1221 (صحيح) عن جابر بن عبد الله؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " أغلقوا الأبواب، وأوكوا السقاء، وأكفئوا الإناء، وخمروا الإناء(1)، وأطفئوا المصباح؛ فإن الشيطان لا يفتح غلقاً، ولا يحل وكاء، ولا يكشف غناء، وإن الفويسقة تضرم على الناس بيتهم".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دروازے بند کر دو، مشکیزوں کے منہ باندھ دو، برتنوں کو الٹا کر دو، اور برتنوں کو ڈھانپ دو، اور چراغ بجھا دو، کیونکہ شیطان بند دروازے کو نہیں کھولتا، نہ (مشکیزے کا) بندھن کھولتا ہے اور نہ (ڈھکے ہوئے) برتن کو کھولتا ہے، اور چوہیا لوگوں پر ان کا گھر جلا دیتی ہے۔“
932/1222 (صحيح) عن ابن عباس قال : جاءت فأرة فأخذت تجر الفتيلة، فذهبت الجارية تزجرها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "دعيها"، فجاءت بها فألقتها على الخمرة التي كان قاعداً عليها، فاحترق منها مثل وضع درهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا نمتم فأطفئوا سرجكم، فإن الشيطان يدل مثل هذه على مثل هذا فتحرقكم".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک چوہیا آئی اور چراغ کی بتی کھینچنے لگی، لونڈی اسے ڈانٹ کر بھگانے کے لیے چلی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔“ چنانچہ وہ اس (بتی) کو لے آئی اور اسے اس چٹائی پر ڈال دیا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، تو اس سے ایک درہم کے برابر جگہ جل گئی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سونے لگو تو اپنے چراغ بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان اس جیسی (چوہیا) کو اس جیسے (کام) کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور وہ تمہیں جلا ڈالتی ہے۔“