905/1182 (صحيح لغيره) عن سليم بن جابر الهجيمي قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو محتبٍ في بُردة، وإن هُدّابها(1) لعلى قدميه. فقلت: يا رسول الله! أوصني. قال: " عليك باتقاء الله، ولا تحقرن من المعروف شيئاً، ولو أن تفرغ للمستسقي من دلوك في إنائه، أو تكلم أخاك ووجهك منبسط، وإياك وإسبال الإزرار، فإنها من المخيلة، ولا يحبها الله. وإن امرؤ عيّرك بشيء يعلمه منك فلا تعيّره بشيء تعلمه منه، دعه يكون وباله عليه، وأجره لك، ولا تسبنّ شيئاً". قال: فما سببت بعد دابة ولا إنساناً.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا سلیم بن جابر ہجیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ ایک چادر میں گوٹ مار کر (احتباء کیے) بیٹھے تھے، اور اس کے پھندنے آپ کے قدموں پر پڑے تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ سے ڈرنے کو لازم پکڑو، اور کسی بھی نیکی کو ہرگز حقیر نہ سمجھو، اگرچہ یہ ہو کہ تم پانی مانگنے والے کے برتن میں اپنے ڈول سے (پانی) انڈیل دو، یا تم اپنے بھائی سے اس حال میں بات کرو کہ تمہارا چہرہ کھلا ہوا ہو۔ اور تہبند لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر میں سے ہے اور اللہ اسے پسند نہیں کرتا۔ اور اگر کوئی آدمی تمہیں کسی ایسی بات پر عار دلائے جو وہ تمہارے بارے میں جانتا ہے تو تم اسے کسی ایسی بات پر عار نہ دلاؤ جو تم اس کے بارے میں جانتے ہو، اسے چھوڑ دو، اس کا وبال اسی پر ہو گا اور اس کا اجر تمہارے لیے ہو گا۔ اور کسی چیز کو ہرگز گالی نہ دو ۔“ انہوں نے کہا: چنانچہ اس کے بعد میں نے نہ کسی جانور کو گالی دی اور نہ کسی انسان کو۔
906/1183 (حسن) عن أبي هريرة قال: ما رأيت حسناً قطّ إلا فاضت عيناي دموعاً؛ وذلك أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج يوماً، فوجدني في المسجد، فأخذ بيدي، فانطلقت معه، فما كلمني حتى جئنا سوق بني قينقاع، فطاف فيه ونظر، ثم انصرف وأنا معه؛ حتى جئنا المسجد، فجلس فاحتبى، ثم قال: "أين لكاع؟ ادع لي لكاع"(2). فجاء حسن يشتد فوقع في حجره، ثم أدخل يده في لحيته، ثم جعل النبي صلى الله عليه وسلم يفتح فاه فيدخل فاه في فيه، ثم قال : " اللهم إني أحبه، فأحببه، وأحب من يحبه".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے جب بھی حسن (رضی اللہ عنہ) کو دیکھا میری آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے، اور یہ اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نکلے تو مجھے مسجد میں پایا، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں آپ کے ساتھ چل پڑا، آپ نے مجھ سے کوئی بات نہ کی یہاں تک کہ ہم بنو قینقاع کے بازار میں آ گئے، آپ نے اس میں چکر لگایا اور دیکھا، پھر واپس لوٹے اور میں آپ کے ساتھ تھا، یہاں تک کہ ہم مسجد میں آ گئے، آپ بیٹھ گئے اور گوٹ مار لی، پھر فرمایا : ”ننھا کہاں ہے؟ ننھے کو میرے پاس بلاؤ ۔“ تو حسن (رضی اللہ عنہ) دوڑتے ہوئے آئے اور آپ کی گود میں آ گرے، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ آپ کی داڑھی مبارک میں ڈال دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کا منہ کھولتے اور اپنا منہ ان کے منہ میں ڈالتے (یعنی پیار سے چومتے)، پھر فرمایا : «اللهم إني أحبه، فأحببه، وأحب من يحبه» ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما، اور اس سے بھی محبت فرما جو اس سے محبت کرے ۔“