❮
❯
حدیث نمبر: 907
907/1184 (حسن صحيح) عن أنس بن مالك: أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى بهم الظهر، فلما سلم قام على المنبر، فذكر الساعة، وذكر أن فيها أموراً عظاماً، ثم قال: "من أحب أن يسأل شيء فليسأل عنه، فوالله لا تسألوني عن شيء إلا أخبرتكم، ما دمت في مقامي هذا". قال أنس: فأكثر الناس البكاء حين سمعوا ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأكثر رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقول: "سلوا". فبرك عمر على ركبتيه، وقال: رضينا بالله رباً، وبالإسلام ديناً، وبمحمد رسولاً، فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم حين قال ذلك عمر، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " أولى(1)، أما والذي نفس محمد بيده، لقد عرضت علي الجنة والنار في عرض هذا الحائط – وأنا أصلي- فلم أر كاليوم في الخير والشر".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی، جب آپ نے سلام پھیرا تو منبر پر کھڑے ہوئے، اور قیامت کا ذکر کیا اور ذکر کیا کہ اس میں بڑے بڑے امور ہوں گے، پھر فرمایا : ”جو کسی چیز کے بارے میں پوچھنا چاہے تو اس کے بارے میں پوچھ لے، اللہ کی قسم! جب تک میں اپنی اس جگہ پر ہوں تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھو گے میں تمہیں اس کی خبر دوں گا ۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی تو بہت زیادہ رونے لگے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار فرماتے رہے: ”پوچھو ۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہا: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے رسول ہونے پر راضی ہیں۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”(آفت) قریب آ گئی تھی، سنو! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! ابھی جب میں نماز پڑھ رہا تھا تو اس دیوار کی چوڑائی میں مجھ پر جنت اور جہنم پیش کی گئیں، تو میں نے آج جیسا خیر اور شر کبھی نہیں دیکھا ۔“

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 907