❮
❯
810/1055 (حسن الإسناد) عن عبد الله بن عمر قال: "إذا دخل البيت غير المسكون، فليقل: السلام علينا، وعلى عباد الله الصالحين".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا : جب (آدمی) کسی غیر آباد گھر میں داخل ہو تو کہے: «السلام علينا، وعلى عباد الله الصالحين» ”ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 810
811/1056 (صحيح الإسناد) عن ابن عباس قال: ? لا تدخلوا بيوتاً غير بيوتكم حتى تستأنسوا وتسلموا على أهلها? [النور: 27]، واستثنى من ذلك فقال: ? ليس عليكم جناح أن تدخلوا بيوتاً غير مسكونة فيها متاعٌ لكم … ? إلى قوله : ? تكتمون? [النور: 29]".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے (اللہ تعالیٰ کے فرمان) «لا تدخلوا بيوتاً غير بيوتكم حتى تستأنسوا وتسلموا على أهلها» ”اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور ان کے رہنے والوں کو سلام نہ کر لو“ [النور: 27] کے بارے میں فرمایا: پھر (اللہ تعالیٰ نے) اس میں سے استثنا فرمایا اور فرمایا: «ليس عليكم جناح أن تدخلوا بيوتاً غير مسكونة فيها متاعٌ لكم» ”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم ایسے گھروں میں داخل ہو جو آباد نہیں اور ان میں تمہارا کچھ سامان ہو“ سے لے کر اللہ تعالیٰ کے فرمان «تكتمون» ”(جو) تم چھپاتے ہو“ [النور: 29] تک ۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 811