❮
❯
796/1038- (صحيح الإسناد موقوفاً ) عن عبد الله بن الصامت قال: قلت: لأبي ذر: مررت بعبد الرحمن بن أم الحكم، فسلمت، فما رد علي شيئاً؟ فقال: "يا ابن أخي! ما يكون عليك من ذلك؟ ردّ عليك من هو خير منه؛ ملك عن يمينه".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عبداللہ بن صامت سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں عبدالرحمن بن ام الحکم کے پاس سے گزرا، میں نے سلام کیا تو اس نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا ؟ انہوں نے فرمایا : ”اے بھتیجے! اس سے تمہارا کیا (نقصان) ہوتا ہے ؟ تمہیں اس نے جواب دے دیا جو اس سے بہتر ہے، یعنی وہ فرشتہ جو اس کی دائیں جانب ہے ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 796
797/1039- (صحيح موقوفاً- وصح مرفوعاً ) عن عبد الله [ هو ابن مسعود] قال: " إن السلام اسم من أسماء الله، وضعه الله في الأرض، فأفشوه بينكم، إن الرجل إذا سلم على القوم فردّوا عليه كانت عليهم فضل درجة، لأنه ذكرهم السلام، وإن لم يرد عليه رد عليه من هو خير منه وأطيب".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا : ”بیشک سلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، اللہ نے اسے زمین میں رکھا ہے، لہٰذا اسے آپس میں عام کرو۔ جب آدمی کچھ لوگوں کو سلام کرے اور وہ اسے جواب دیں تو اسے ان پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہوتی ہے، کیونکہ اس نے انہیں سلام یاد دلایا، اور اگر وہ اسے جواب نہ دیں تو اسے وہ جواب دیتا ہے جو ان سے بہتر اور پاکیزہ ہے ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 797
798/1010- (صحيح الإسناد) عن الحسن [هو البصري] قال: " التسليم تطوع، والردّ فريضة"(1).
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
حسن (بصری) سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا : ”سلام کرنا نفل ہے اور اس کا جواب دینا فرض ہے ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 798