❮
❯
791/1023- (صحيح الإسناد) عن عبد الله بن عمرو قال: بينما نحن جلوس عند النبي صلى الله عليه وسلم في ظل شجرة بين مكة والمدينة-إذ جاء الأعرابي من أجلف الناس وأشده، فقال: السلام عليكم. فقالوا: "وعليكم [السلام]".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک دفعہ ہم مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک درخت کے سائے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اعرابی آیا جو لوگوں میں سب سے زیادہ اجڈ اور سخت مزاج تھا، اس نے کہا: السلام علیکم۔ تو لوگوں نے کہا: ”وعلیکم (السلام) ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 791
792/1033- (صحيح الإسناد) عن أبي جمرة(1): "سمعت ابن عباس إذا سلم عليه، يقول: "وعليك، ورحمة الله".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابوجمرہ سے روایت ہے، (انہوں نے کہا:) میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنا کہ جب انہیں سلام کیا جاتا تو وہ کہتے: «وعليك، ورحمة الله» ”اور تم پر بھی (سلام) اور اللہ کی رحمت ہو ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 792
793/1034- (حسن صحيح ) قال أبو عبد الله : وقالت: قيلة: قال رجل: السلام عليكم يا رسول الله! قال: "وعليك السلام، ورحمة الله".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو عبداللہ (امام بخاری) نے کہا: اور سیدہ قیلہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: ایک آدمی نے کہا: السلام علیکم یا رسول اللہ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام ہو) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وعلیک السلام ورحمۃ اللہ (اور تم پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو) ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 793
794/1035- (صحيح) عن أبي ذر قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم حين فرغ من صلاته، فكنت أول من حياه بتحية الإسلام، فقال: "وعليك، ورحمة الله، ممن أنت؟". قلت: من غفار.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آیا جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہوئے، تو میں پہلا شخص تھا جس نے آپ کو اسلام کے سلام کے ساتھ سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وعلیک ورحمۃ اللہ (اور تم پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو)، تم کن لوگوں میں سے ہو ؟“ میں نے کہا: (قبیلہ) غفار سے ۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 794
795/1037- (صحيح) عن معاوية بن قرة قال: قال لي أبي: "يا بني ! إذا مرّ بك الرجل، فقال: السلام عليكم، فلا تقل: وعليك. كأنك تخصّه بذلك وحده؛ فإنه ليس وحده، ولكن قل: السلام عليكم".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
معاویہ بن قرہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے فرمایا : ”اے میرے بیٹے! جب کوئی آدمی تمہارے پاس سے گزرے اور کہے: السلام علیکم، تو تم (صرف) وعلیک نہ کہو، گویا کہ تم اسی اکیلے کو اس (جواب) کے ساتھ خاص کر رہے ہو، کیونکہ وہ اکیلا نہیں ہوتا، بلکہ تم (بھی) کہو: السلام علیکم ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 795