❮
❯
733/952 (صحيح) عن أنس بن مالك قال: " كان النبي صلى الله عليه وسلم يدخل على أم حرام؛ ابنة ملحان، فتطعمه، وكانت تحت عبادة بن الصامت، فأطعمته، وجعلت تفلي رأسه، فنام، ثم استيقظ يضحك".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ آپ کو کھانا کھلاتیں، اور وہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ (ایک دن) انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور آپ کے سر میں جوئیں دیکھنے لگیں، تو آپ سو گئے، پھر ہنستے ہوئے بیدار ہوئے۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 733
734/953(حسن لغيره) عن قيس بن عاصم السعدي قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " هذا سيد أهل الوبر". فقلت: يا رسول الله! ما المال الذي ليس علي فيه تبعة من طالب، ولا من ضيف؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "نعم المال أربعون، والأكثر(1) ستون، وويل لأصحاب المئين، إلا من أعطى الكريمة، ومنح الغزيرة، ونحر السمينة، فأكل، وأطعم القانع والمعتر"(2). قلت: يا رسول الله! ما أكرم هذه الأخلاق لا يحل بواد أنا فيه من كثرة نعمي. فقال: " كيف تصنع بالعطية؟ " قلت: أعطي البكر، وأعطي الناب(3) قال: " كيف تصنع في المنيحة"(4) قال: إني لأمنح الناقة. قال: " كيف تصنع في الطروقة؟"(5) قال: يغدوا الناس بحبالهم، ولا يوزع(6) رجل من جمل يختطمه(7)، فيمسكه ما بدا له، حتى يكون هو يرده، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " فمالك أحب إليك، أم مال مواليك؟". [قال : مالي]. قال: " فإنما لك من مالك ما أكلت فأفنيت، أو أعطيت فامضيت، وسائره لمواليك". فقلت: لا جرم، لئن رجعت لأقلن عددها. فلما حضره الموت جمع بنيه، فقال: يا بني! خذوا عني؛ فإنكم لن تأخذوا عن أحدٍ هو أنصح لكم مني: لا تنوحوا عليّ؛ فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم ينح عليه، وقد سمعت النبي صلى الله عليه وسلم ينهى عن النياحة، وكفنوني في ثيابي التي كنت أصلي فيها، وسودوا أكابركم؛ فإنكم إذا سودتم أكابركم لم يزل لأبيكم فيكم خليفة، وإذا سودتم أصاغركم هان أكابركم على الناس، وزهدوا فيكم. واصلحوا عيشكم؛ فإن فيه غنىً عن طلب الناس، وإياكم والمسألة، فإنها آخر كسب المرء. وإذا دفنتموني فسووا على قبري؛ فإنه كان يكون شيء بيني وبين هذا الحي من بكر بن وائل: خماشات(8)، فلا آمن سفيهاً أن يأتي أمراً يدخل عليكم عيباً في دينكم.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا قیس بن عاصم سعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”یہ خیمہ نشینوں (بادیہ والوں) کا سردار ہے۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سا مال ہے جس میں مجھ پر کسی مانگنے والے یا مہمان کی طرف سے کوئی ذمہ داری نہ ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین مال چالیس (اونٹ) ہیں، اور زیادہ سے زیادہ ساٹھ، اور سینکڑوں والوں کے لیے ہلاکت ہے، سوائے اس کے جس نے عمدہ اونٹنی (اللہ کی راہ میں) دی، زیادہ دودھ والی اونٹنی دودھ کے لیے عاریتاً دی، اور موٹا تازہ جانور ذبح کیا، پھر خود بھی کھایا اور قناعت کرنے والے اور مانگنے والے کو بھی کھلایا۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ اخلاق کس قدر عمدہ ہیں! (لیکن) جس وادی میں میں ہوتا ہوں اس میں میرے مویشیوں کی کثرت کی وجہ سے کوئی (دوسرا) نہیں اترتا۔ آپ نے فرمایا: ”تم عطیہ میں کیا کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں جوان اونٹ بھی دیتا ہوں اور بوڑھی اونٹنی بھی دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”دودھ کے لیے جانور دینے میں کیا کرتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: میں اونٹنی دودھ کے لیے دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”جفتی کے لیے نر اونٹ دینے میں کیا کرتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: لوگ صبح سویرے اپنی رسیاں لے کر آتے ہیں، اور کسی آدمی کو کسی اونٹ کو نکیل ڈال کر لے جانے سے روکا نہیں جاتا، وہ جب تک چاہتا ہے اسے رکھتا ہے یہاں تک کہ وہ خود ہی اسے واپس کر دیتا ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اپنا مال زیادہ محبوب ہے یا اپنے وارثوں کا مال؟“ (انہوں نے عرض کیا: اپنا مال۔) آپ نے فرمایا: ”تمہارے مال میں سے تمہارا تو بس وہی ہے جو تم نے کھا کر ختم کر دیا، یا دے کر آگے بھیج دیا، اور باقی سب تمہارے وارثوں کا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یقیناً، اگر میں واپس گیا تو ان (اونٹوں) کی تعداد کم کر دوں گا۔ پھر جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو جمع کیا اور کہا: اے میرے بیٹو! مجھ سے (یہ باتیں) لے لو، کیونکہ تم کسی ایسے شخص سے نہیں لو گے جو مجھ سے بڑھ کر تمہارا خیرخواہ ہو: مجھ پر نوحہ نہ کرنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نوحہ سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے۔ اور مجھے میرے ان کپڑوں میں کفن دینا جن میں میں نماز پڑھا کرتا تھا۔ اور اپنے بڑوں کو سردار بنانا، کیونکہ جب تم اپنے بڑوں کو سردار بناؤ گے تو تم میں تمہارے باپ کا جانشین باقی رہے گا، اور جب تم اپنے چھوٹوں کو سردار بناؤ گے تو تمہارے بڑے لوگوں کی نظر میں بے وقعت ہو جائیں گے اور لوگ تم سے بے رغبت ہو جائیں گے۔ اور اپنی معیشت درست رکھنا، کیونکہ اس میں لوگوں سے مانگنے سے بے نیازی ہے، اور سوال کرنے سے بچنا، کیونکہ یہ آدمی کی کمائی کا آخری (بدترین) ذریعہ ہے۔ اور جب تم مجھے دفن کرو تو میری قبر کو (زمین کے) برابر کر دینا، کیونکہ میرے اور بکر بن وائل کے اس قبیلے کے درمیان کچھ رنجشیں (خراشیں) رہی ہیں، تو مجھے کسی بےوقوف سے اطمینان نہیں کہ وہ کوئی ایسا کام کر بیٹھے جس سے تمہارے دین میں کوئی عیب داخل ہو جائے۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 734