716/931- عن أنس قال: عطس رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم، فشمت أحدهما، ولم يشمت الآخر، فقال: شمت هذا ولم تشمّتني؟ قال: " إن هذا حمد الله، ولم تحمدَهُ"(1).
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی، آپ نے ان میں سے ایک کو (یرحمک اللہ کہہ کر) جواب دیا اور دوسرے کو جواب نہ دیا۔ اس نے کہا: آپ نے اسے جواب دیا اور مجھے جواب نہیں دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اللہ کی حمد کی اور تم نے اس کی حمد نہیں کی۔“
717/932-(حسن) ومن طريق أخرى عن أبي هريرة قال: جلس رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم أحدهما أشرف من الآخر، فعطس الشريف منهما، فلم يحمد الله، ولم يشمته، وعطس الآخر فحمد الله، فشمّته النبي صلى الله عليه وسلم، فقال الشريف: عطست عندك فلم تشمّتني، وعطس هذا الآخر فشمّته! فقال: " إن هذا ذكر الله فذكرته، وأنت نسيت الله فنسيتُك".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
اور ایک دوسری سند سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے، ان میں سے ایک دوسرے سے زیادہ معزز تھا۔ معزز آدمی کو چھینک آئی تو اس نے اللہ کی حمد نہیں کی، تو آپ نے اسے جواب نہیں دیا۔ اور دوسرے کو چھینک آئی تو اس نے اللہ کی حمد کی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا۔ معزز آدمی نے کہا: مجھے آپ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، اور اس دوسرے کو چھینک آئی تو آپ نے اسے جواب دیا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اللہ کو یاد کیا تو میں نے اسے یاد کیا، اور تم نے اللہ کو بھلا دیا تو میں نے تمہیں بھلا دیا۔“