61/84 عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قال أبو بكر رضي الله عنه يوماً: "والله ما على وجه الأرض رجل أحب إلى من عمر، فلما خرج رجع فقال: كيف حلفت أي بنية؟ فقلت له. فقال: أعز علي والولد ألوط(2)".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ایک دن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”اللہ کی قسم ! روئے زمین پر کوئی آدمی مجھے عمر سے زیادہ محبوب نہیں ۔“ پھر جب وہ باہر گئے تو لوٹ کر آئے اور فرمایا : بیٹی ! میں نے کس طرح قسم کھائی تھی ؟ میں نے انہیں (وہ الفاظ) بتا دیے ۔ تو انہوں نے فرمایا : ”(عمر) مجھے زیادہ عزیز ہیں ، مگر اولاد دل سے زیادہ چمٹی ہوئی ہوتی ہے ۔“
62/58 عن ابن أبي نعم قال: كنت شاهداً ابن عمر، إذا سأله رجل عن دم البعوضة؟ فقال: ممن أنت؟ فقال: من أهل العراق. قال: انظروا إلى هذا يسألني عن دم البعوضة، وقد قتلوا ابن النبي صلى الله عليه وسلم، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: ((هما ريحانيّ من الدّنيا)).
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابن ابی نعم سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی نے ان سے مچھر کے خون کے بارے میں پوچھا ۔ انہوں نے فرمایا : تم کہاں کے ہو ؟ اس نے کہا : عراق والوں میں سے ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : اسے دیکھو ! یہ مجھ سے مچھر کے خون کے بارے میں پوچھتا ہے ، حالانکہ ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے (نواسے) کو قتل کر دیا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ”وہ دونوں (حسن و حسین) دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔“