❮
❯
حدیث نمبر: 983
983/1302 (حسن الإسناد) عن زيد بن ثابت: أن عمر بن الخطاب جاءه يستأذن عليه يوماً، فأذن له ورأسه في يد جارية له ترجله، فنزع رأسه. فقال عمر: دعها ترجلك. فقال : يا أمير المؤمنين ! لو أرسلت إلي جئتك. فقال عمر: "إنما الحاجة لي".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی، انہوں نے اجازت دے دی، اس وقت ان کا سر ان کی ایک لونڈی کے ہاتھ میں تھا جو ان کے بالوں میں کنگھی کر رہی تھی، تو انہوں نے اپنا سر (اس سے) کھینچ لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے کنگھی کرنے دو۔ انہوں نے عرض کیا: اے امیر المومنین! اگر آپ مجھے پیغام بھیج دیتے تو میں آپ کے پاس آ جاتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ضرورت تو مجھے تھی۔“

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 983