صحيح الادب المفرد
— حصہ چہارم: احادیث 751 سے 999
باب من حمد الله عند الولادة إذا كان سويا ولم يبال ذكرا أوأنثى
حدیث نمبر: 956
956/1256 (حسن الإسناد موقوفاً) عن كثير بن عبيد قال: "كانت عائشة رضي الله عنها إذا ولد فيهم مولود- يعني : في أهلها- لا تسأل : غلاماً ولا جارية، تقول : خُلق سوياً؟ فإذا قيل: نعم. قالت: الحمد لله رب العالمين".ترجمہ:مولانا عثمان منیب
کثیر بن عبید سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں - یعنی ان کے گھر والوں میں - جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو وہ یہ نہیں پوچھتی تھیں کہ لڑکا ہے یا لڑکی، (بلکہ) فرماتیں: کیا صحیح سالم پیدا ہوا ہے؟ جب کہا جاتا: جی ہاں۔ تو فرماتیں: «الحمد لله رب العالمين» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“