حدیث نمبر: 948
948/1234 (صحيح الإسناد) عن ميمون بن مهران قال: سألت نافعاً : هل كان ابن عمر يدعو للمأدبة؟ قال: لكنه انكسر له بعير مرة فنحرناه، ثم قال: احشر علي المدينة(1)! قال نافع: فقلت : يا أبا عبد الرحمن ! علي أي شيء؟ ليس عندنا خبز، فقال: "اللهم لك الحمد، هذا عُراقٌ(2)، وهذا مرق، أوقال: مرق وبضع(3)، فمن شاء أكل، ومن شاء ودع".ترجمہ:مولانا عثمان منیب
میمون بن مہران سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نافع سے پوچھا: کیا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما دعوت (طعام) کے لیے (لوگوں کو) بلایا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: (عام طور پر نہیں) لیکن ایک مرتبہ ان کا ایک اونٹ (کی ٹانگ) ٹوٹ گئی تو ہم نے اسے نحر کر دیا، پھر انہوں نے فرمایا: اہل مدینہ کو میرے پاس جمع کر لاؤ! نافع کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمن! کس چیز پر؟ ہمارے پاس تو روٹی بھی نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”اے اللہ! تیرے ہی لیے سب تعریف ہے، یہ گوشت والی ہڈیاں ہیں اور یہ شوربا ہے - یا فرمایا: شوربا اور گوشت کے ٹکڑے ہیں - تو جو چاہے کھائے اور جو چاہے چھوڑ دے۔“