❮
❯
حدیث نمبر: 946
946/1241 (صحيح الإسناد) عن أنس : ما كان لأهل المدينة شراب – حيث حرمت الخمر – أعجب إليهم من التمر والبُسر؛ فإني لأسقي أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم – وهم عند أبي طلحة- مر رجلٌ فقال: " إن الخمر قد حرمت". فما قالوا: متى ؟ أو حتى نَنْظر. قالوا: يا أنس ! أهرقها، ثم قالوا(2) عند أم سليم أبردوا واغتسلوا، ثم طيبتهم أم سليم، ثم راحوا إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فإذا الخبر كما قال الرجل. قال أنس : فما طعموها بعد.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، (انہوں نے کہا:) جب شراب حرام کی گئی تو اہل مدینہ کے ہاں کوئی مشروب انہیں (پکی اور ادھ پکی) کھجور (کی نبیذ) سے زیادہ پسند نہیں تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو پلا رہا تھا اور وہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاں تھے کہ ایک آدمی گزرا اور اس نے کہا: ”بیشک شراب حرام کر دی گئی ہے۔“ تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ کب (حرام ہوئی)؟ یا یہ کہ (ٹھہرو) ہم دیکھ لیں۔ (بلکہ) انہوں نے کہا: اے انس! اسے بہا دو۔ پھر انہوں نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں قیلولہ کیا، (دن) ٹھنڈا ہونے تک ٹھہرے اور غسل کیا، پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے انہیں خوشبو لگائی، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے تو خبر ویسی ہی تھی جیسی اس آدمی نے کہی تھی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر انہوں نے اس کے بعد اسے کبھی نہیں چکھا۔

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 946