❮
❯
حدیث نمبر: 900
900/1176 (صحيح) عن أبي قلابة قال: أخبرني أبو المليح قال: دخلت مع أبيك؛ زيد على عبد الله بن عمرو، فحدثنا: أن النبي صلى الله عليه وسلم ذُكر له صومي، فدخل عليه، فألقيت له وسادة من أدم حشوها ليف، فجلس على الأرض، وصارت الوسادة بيني وبينه، فقال لي: "أما يكفيك من كل شهر ثلاثة أيام؟". [قال: قلت: يا رسول الله!] قال: "خمساً". قلت: يا رسول الله! [قلت: يا رسول الله! قال: "سبعاً" قلت: يا رسول الله! قال: "تسعاً"، قلت: يا رسول الله!] قال: "إحدى عشرة". قلت: يا رسول الله! قال: "لا صوم فوق صوم داود؛ شطر الدهر، صيام يومٍ وإفطار يوم".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

ابوقلابہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے ابوالملیح نے بتایا، انہوں نے کہا: میں تمہارے والد زید کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس گیا تو انہوں نے ہمیں بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے روزوں کا ذکر کیا گیا تو آپ میرے پاس تشریف لائے، میں نے آپ کے لیے چمڑے کا ایک تکیہ رکھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، مگر آپ زمین پر بیٹھ گئے اور تکیہ میرے اور آپ کے درمیان ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ”کیا تمہیں ہر مہینے میں تین دن (کے روزے) کافی نہیں؟“ (انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!) آپ نے فرمایا : ”پانچ ۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! (میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا : ”سات ۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا : ”نو ۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!) آپ نے فرمایا : ”گیارہ ۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”داود (علیہ السلام) کے روزے سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں، (یعنی) آدھا زمانہ، ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا ۔“

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 900