899/1175 (صحيح) عن أبي سعيد الخدري قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لبستين، وبيعتين: نهى عن الملامسة والمنابذة: في البيع – الملامسة: يمس الرجل ثوبه. والمنابذة: ينبذ الآخر إليه ثوبه- ويكون ذلك بيعهما عن غير نظر. واللبستين اشتمال الصماء- والصماء: أن يجعل طرف ثوبه على إحدى(1) عاتقيه، فيبدو أحد شقيه ليس عليه شيء(2)- واللبسة الأخرى احتباؤه بثوبه وهو جالس، ليس على فرجه منه شيء".سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو (طرح کے) لباس اور دو (طرح کی) بیع سے منع فرمایا: آپ نے خرید و فروخت میں ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا — ملامسہ یہ ہے کہ آدمی (دوسرے کے) کپڑے کو (بس) چھو لے، اور منابذہ یہ ہے کہ دوسرا اپنا کپڑا اس کی طرف پھینک دے — اور یہ ان کی بیع دیکھے بھالے بغیر ہو۔ اور دو لباس (یہ ہیں): اشتمال صماء — اور صماء یہ ہے کہ آدمی اپنے کپڑے کا کنارہ اپنے ایک کندھے پر ڈال لے، تو اس کا ایک پہلو ظاہر ہو جائے جس پر کچھ نہ ہو — اور دوسرا لباس یہ ہے کہ آدمی بیٹھے ہوئے اپنے کپڑے سے احتباء کرے (یعنی گوٹ مار کر بیٹھے) اور اس کی شرمگاہ پر اس کپڑے میں سے کچھ نہ ہو ۔“