885/1154 (صحيح الإسناد) عن أنس : "خدمت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوماً، حتى إذا رأيت أني قد فرغت من خدمته، قلت: يقيل النبي صلى الله عليه وسلم. فخرجت(1) من عنده، فإذا غلمة يلعبون، فقمت أنظر إليهم؛ إلى لعبهم، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فانتهى إليهم، فسلم عليهم، ثم دعاني، فبعثني إلى حاجة، فكان في فيء(2) حتى أتيتهُ. وأبطأت على أمي(3) فقالت: ما حبسك؟ قلت: بعثني النبي صلى الله عليه وسلم إلى حاجة، قالت: ما هي؟ قلت: إنه سرّ للنبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: احفظ على رسول الله صلى الله عليه وسلم سرّه، فما حدثت بتلك الحاجة أحداً من الخلق، فلو كنت محدثاً حدثتك بها"(4).سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، یہاں تک کہ جب میں نے دیکھا کہ میں آپ کی خدمت سے فارغ ہو گیا ہوں تو میں نے (دل میں) کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم قیلولہ فرمائیں گے۔ چنانچہ میں آپ کے پاس سے نکل آیا، تو (دیکھا کہ) کچھ لڑکے کھیل رہے ہیں، میں کھڑا ہو کر انہیں، یعنی ان کے کھیل کو دیکھنے لگا۔ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے پاس پہنچ کر انہیں سلام کیا، پھر مجھے بلایا اور ایک کام سے بھیجا، اور آپ (میرے انتظار میں) ایک سائے میں رہے یہاں تک کہ میں آپ کے پاس (واپس) آیا۔ مجھے اپنی والدہ کے پاس جانے میں دیر ہو گئی تو انہوں نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟ میں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام سے بھیجا تھا۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیا تھا؟ میں نے کہا: وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک راز ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا۔ چنانچہ میں نے وہ کام مخلوق میں سے کسی کو نہیں بتایا، اور اگر میں (کسی کو) بتانے والا ہوتا تو تمہیں ضرور بتا دیتا ۔“