872/1139 (صحيح) عن أنس : أتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن صبيان، فسلم علينا، وأرسلني في حاجة، وجلس في الطريق ينتظرني حتى رجعت إليه، قال: فأبطأت على أم سليم. فقالت: ما حبسك؟ فقلت: بعثني النبي صلى الله عليه وسلم في حاجة. قالت: ماهي؟ قلت: قلت: إنها سرّ. قالت: "فاحفظ سر رسول الله صلى الله عليه وسلم ".سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم بچے تھے، آپ نے ہمیں سلام کیا اور مجھے کسی کام سے بھیجا، اور خود راستے میں بیٹھ کر میرا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ میں آپ کے پاس واپس آیا۔ انہوں نے کہا: (اس وجہ سے) مجھے (اپنی والدہ) ام سلیم (رضی اللہ عنہا) کے پاس جانے میں دیر ہو گئی، انہوں نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟ میں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام سے بھیجا تھا۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیا تھا؟ میں نے کہا: وہ ایک راز ہے۔ انہوں نے کہا: ”تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا ۔“