❮
❯
حدیث نمبر: 816
816/1065 (صحيح) عن عبيد بن عمير: أن أبا موسى الأشعري استأذن على عمر بن الخطاب، فلم يؤذن له – وكأنه كان مشغولاً- فرجع أبو موسى، ففرغ عمر، فقال: ألم أسمع صوت عبد الله بن قيس؟ إيذنوا له، قيل: قد رجع، فدعاه، فقال: كنا نؤمر بذلك(1). فقال: تأتيني على ذلك بالبينة(2). فانطلق إلى مجلس الأنصار، فسألهم؟ فقالوا: لا يشهد لك على هذا إلا أصغرنا: أبو سعيد الخدري، فذهب بأبي سعيد. فقال عمر: أخفي عليّ[هذا] من أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ ألهاني الصفق بالأسواق. يعني: الخروج إلى التجارة.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے (اندر آنے کی) اجازت طلب کی تو انہیں اجازت نہ ملی — گویا وہ مصروف تھے — تو ابوموسیٰ واپس چلے گئے۔ پھر عمر فارغ ہوئے تو کہا: کیا میں نے عبداللہ بن قیس کی آواز نہیں سنی تھی ؟ انہیں اجازت دو۔ کہا گیا: وہ تو واپس چلے گئے ہیں۔ تو انہوں نے انہیں بلایا، (ابوموسیٰ نے) کہا: ہمیں اسی کا حکم دیا جاتا تھا۔ عمر نے کہا: تم اس پر میرے پاس دلیل (گواہ) لاؤ۔ چنانچہ وہ انصار کی مجلس میں گئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس پر تمہارے حق میں ہم میں سے سب سے چھوٹا ابوسعید خدری ہی گواہی دے گا۔ چنانچہ وہ ابوسعید کو لے گئے۔ تو عمر نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھ سے پوشیدہ رہ گیا ؟ مجھے بازاروں میں خرید و فروخت نے غافل رکھا۔ یعنی تجارت کے لیے نکلنے نے ۔

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 816