❮
❯
حدیث نمبر: 815
815/1063 (صحيح الإسناد) عن عطاء قال: سألت ابن عباس، فقلت: أستأذن على أختي؟ فقال: "نعم". فأعدتُ، فقلتُ: أختان في حجري، وأنا أمونُهُما، وأنفق عليهما، أستأذن عليهما؟ قال: "نعم، أتحب أن تراهما عريانتين؟! ثم قرأ : ?يا أيها الذين آمنوا ليستئذنكم الذين ملكت أيمانكم… ? إلى : ? ثلاث عورات لكم ? [النور: 58] قال: فلم يؤمر هؤلاء بالإذن إلا في هذه العورات الثلاث". قال: ? وإذا بلغ الأطفال منكم الحلم? [النور: 59]، قال ابن عباس: "فالإذن واجب، [على الناس كلهم]".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

عطاء سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا میں اپنی بہن کے پاس جانے کے لیے اجازت لوں ؟ انہوں نے فرمایا : ”ہاں ۔“ میں نے دوبارہ پوچھا اور کہا: میری دو بہنیں میری پرورش میں ہیں، میں ہی ان کی کفالت کرتا ہوں اور ان پر خرچ کرتا ہوں، کیا میں ان سے (بھی) اجازت لوں ؟ انہوں نے فرمایا : ”ہاں، کیا تم پسند کرتے ہو کہ انہیں برہنہ دیکھو ؟!“ پھر یہ آیت پڑھی: «يا أيها الذين آمنوا ليستئذنكم الذين ملكت أيمانكم» ”اے ایمان والو! تمہارے غلام اور لونڈیاں تم سے اجازت لیا کریں“ سے لے کر «ثلاث عورات لكم» ”یہ تین وقت تمہارے پردے کے ہیں“ [النور: 58] تک، اور فرمایا: ”ان لوگوں کو صرف ان تین پردے کے اوقات میں اجازت لینے کا حکم دیا گیا ہے ۔“ اور (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: «وإذا بلغ الأطفال منكم الحلم» ”اور جب تمہارے بچے بلوغت کو پہنچ جائیں“ [النور: 59]، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ”تو اجازت لینا (سب) لوگوں پر واجب ہے ۔“

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 815