❮
❯
حدیث نمبر: 807
807/1052 (صحيح الإسناد) عن ثعلبة بن أبي مالك القرظي(1) : أنه قال: ركب إلىعبد الله بن سويد – أخي بني حارثة بن الحارث- يسأله عن العورات الثلاث، وكان يعمل بهن، فقال: ما تريد؟ فقلت: أريد أن أعمل بهن، فقال: "إذا وضعت ثيابي من الظهيرة، لم يدخل علي أحد من أهلي بلغ الحلم إلا بإذني، إلا أن أدعوه، فذلك إذنه. ولا إذا طلع الفجر وتحرّك(2) الناس، حتى تصلى الصلاة، ولا إذا صليت العشاء ووضعت ثيابي حتى أنام".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

ثعلبہ بن ابی مالک قرظی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: وہ (یعنی میں) سوار ہو کر سیدنا عبداللہ بن سوید رضی اللہ عنہ — جو بنی حارثہ بن حارث کے فرد تھے — کے پاس گئے تاکہ ان سے (پردے کے) تین اوقات کے بارے میں پوچھیں، اور وہ ان پر عمل کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا: میں ان پر عمل کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا : ”جب میں دوپہر کو اپنے (اوپر کے) کپڑے اتار دیتا ہوں تو میرے گھر والوں میں سے کوئی بالغ میری اجازت کے بغیر میرے پاس نہیں آتا، سوائے اس کے کہ میں خود اسے بلاؤں تو یہی اس کی اجازت ہے۔ اور نہ اس وقت (کوئی آتا ہے) جب فجر طلوع ہو اور لوگ حرکت میں آ جائیں یہاں تک کہ نماز پڑھ لی جائے، اور نہ اس وقت جب میں عشاء کی نماز پڑھ لوں اور اپنے کپڑے اتار دوں یہاں تک کہ میں سو جاؤں ۔“

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 807