806/1051 (صحيح) عن أنس : "أنه كان ابن عشر سنين مقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة، فكن أمهاتي(1) يوطوّنني على خدمته، فخدمته عشر سنين، وتوفي وأنا ابن عشرين، فكنت أعلم الناس بشأن الحجاب، فكان أول ما نزل ما ابتنى(2) رسول الله صلى الله عليه وسلم بزينب بنت جحش، أصبح بها عروساً، فدعى القوم فأصابوا من الطعام، ثم خرجوا، وبقي رهط عند النبي صلى الله عليه وسلم فأطالوا المكث، فقام فخرج وخرجت؛ لكي يخرجوا، فمشى فمشيت معه، حتى جاء عتبة حجرة عائشة، ثم ظن أنهم خرجوا فرجع ورجعت [معه] حتى دخل على زينب، فإذا هم جلوس، فرجع ورجعت حتى بلغ عتبة حجرة عائشة. وظن أنهم خرجوا، فرجع ورجعت معه، فإذا هم قد خرجوا، فضرب النبي صلى الله عليه وسلم بيني وبينه الستر، وأُنزل الحجاب"(3).سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہ دس سال کے تھے، (وہ کہتے ہیں:) میری مائیں (والدہ اور خالائیں) مجھے آپ کی خدمت پر آمادہ کرتی رہتی تھیں، چنانچہ میں نے دس سال آپ کی خدمت کی، اور جب آپ کی وفات ہوئی تو میں بیس سال کا تھا۔ میں پردے کے معاملے کو لوگوں میں سب سے زیادہ جانتا تھا، اس کا سب سے پہلا نزول اس وقت ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے شادی کی، آپ نے ان کے ساتھ دولہا کی حالت میں صبح کی، پھر آپ نے لوگوں کو دعوت دی، انہوں نے کھانا کھایا، پھر چلے گئے اور کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہ گئے اور انہوں نے دیر تک قیام کیا، تو آپ اٹھ کر باہر نکلے اور میں بھی نکلا تاکہ وہ بھی نکل جائیں، آپ چلے اور میں بھی آپ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی دہلیز تک آئے، پھر آپ نے خیال کیا کہ وہ نکل گئے ہوں گے، تو آپ لوٹے اور میں بھی (آپ کے ساتھ) لوٹا یہاں تک کہ آپ زینب کے پاس داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ (ابھی تک) بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ پھر لوٹے اور میں بھی لوٹا یہاں تک کہ آپ عائشہ کے حجرے کی دہلیز تک پہنچے، اور آپ نے خیال کیا کہ وہ نکل گئے ہوں گے، تو آپ لوٹے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹا تو دیکھا کہ وہ جا چکے تھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور پردے (کا حکم) نازل کیا گیا ۔