785/1024- (صحيح الإسناد) عن عبيد الله بن عبد الله(2) قال: قدم معاوية حاجا حجته الأولى وهو خليفة فدخل عليه عثمان بن حنيف الأنصاري، فقال : السلام عليك أيها الأمير ورحمة الله، فأنكرها أهل الشام، وقالوا: من هذا المنافق الذي يقصر بتحية أمير المؤمنين؟ فبرك عثمان على ركبته، ثم قال: يا أمير المؤمنين! إن هؤلاء أنكروا علي أمراً أنت أعلم به منهم، فوالله لقد حييت بها أبا بكر، وعمر، وعثمان فما أنكره منهم أحد. فقال معاوية لمن تكلم من أهل الشام: " على رسلكم؛ فإنه قد كان بعض ما يقول، ولكن أهل الشام قد حدثت هذه الفتن، قالو: لا تقصر عندنا تحية خليفتنا؛ فإني إخالكم يا أهل المدينة تقولون لعامل الصدقة : أيها الأمير".عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ بننے کے بعد اپنا پہلا حج کرنے آئے تو سیدنا عثمان بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور کہا: السلام علیک ایہا الامیر ورحمۃ اللہ (اے امیر! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت ہو)۔ اہل شام نے اس کو ناپسند کیا اور کہنے لگے: یہ منافق کون ہے جو امیر المؤمنین کے سلام میں کمی کرتا ہے ؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے، پھر کہا: اے امیر المؤمنین! ان لوگوں نے مجھ پر ایک ایسی بات کا انکار کیا ہے جسے آپ ان سے زیادہ جانتے ہیں، اللہ کی قسم! میں نے اسی (الفاظ) کے ساتھ ابوبکر، عمر اور عثمان (رضی اللہ عنہم) کو سلام کیا تھا تو ان میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں کیا۔ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اہل شام میں سے بولنے والوں سے فرمایا : ”ٹھہرو، جو یہ کہتے ہیں اس میں سے کچھ ایسا ہی ہوا تھا، لیکن جب یہ فتنے پیدا ہوئے تو اہل شام نے کہا: ہمارے ہاں ہمارے خلیفہ کے سلام میں کمی نہ کی جائے۔ اور اے اہل مدینہ! میرا خیال ہے کہ تم تو صدقہ وصول کرنے والے عامل کو بھی ’اے امیر‘ کہتے ہو ۔“