784/1023- (صحيح الإسناد) عن ابن شهاب: أن عمر بن عبد العزيز سأل أبا بكر بن سليمان بن أبي حثمة: لم كان أبو بكر يكتب : من أبي بكر؛ خليفة رسول الله. ثم كان عمر يكتب بعده: من عمر بن الخطاب؛ خليفة أبي بكر. من أول من كتب: أمير المؤمنين؟ فقال: حدثتني جدتي ؛ الشفاء- وكانت من المهاجرات الأول، وكان عمر بن الخطاب رضي الله عنه إذا هو دخل السوق دخل عليها- قالت : " كتب عمر بن الخطاب إلى عامل العراقين (1): أنِ ابعث إلي برجلين جلدين نبيلين؛ أسألهما عن العراق وأهله، فبعث إليه صاحب العراقين بلبيد بن ربيعة وعدي بن حاتم، فقدما المدينة، فأناخا راحلتيهما بفناء المسجد، ثم دخلا المسجد، فوجدا عمرو بن العاص، فقالا له: يا عمرو! استأذن لنا على أمير المؤمنين؛ عمر، فوثب عمرو فدخل على عمر. فقال: السلام عليك يا أمير المؤمنين! فقال عمر: ما بدا لك في هذا الاسم يا ابن العاص لتخرجن مما قلت: قال: نعم، قدم لبيد بن ربيعة وعدي بن حاتم، فقالا لي: استأذن لنا على أمير المؤمنين، فقلت: أنتما والله أصبتما اسمه، وإنه: الأمير، ونحن: المؤمنون. فجرى الكتاب من ذلك اليوم".ابن شہاب سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے پوچھا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کیوں یہ لکھا کرتے تھے: ”ابوبکر خلیفہ رسول اللہ کی طرف سے“، پھر ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لکھتے تھے: ”عمر بن خطاب خلیفہ ابی بکر کی طرف سے“، تو سب سے پہلے ”امیر المؤمنین“ کس نے لکھا ؟ انہوں نے کہا: مجھ سے میری دادی سیدہ شفاء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا — اور وہ اولین ہجرت کرنے والی خواتین میں سے تھیں، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب بازار جاتے تو ان کے پاس بھی جاتے تھے — انہوں نے کہا: ”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عراقین (کوفہ و بصرہ) کے عامل کو لکھا کہ میرے پاس دو مضبوط اور شریف آدمی بھیجو، میں ان سے عراق اور اہل عراق کے بارے میں پوچھوں گا۔ تو عراقین کے عامل نے ان کے پاس لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم کو بھیجا۔ وہ دونوں مدینہ آئے، اپنی سواریاں مسجد کے صحن میں بٹھائیں، پھر مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں عمرو بن العاص کو پایا، ان سے کہا: اے عمرو! ہمارے لیے امیر المؤمنین عمر سے اجازت طلب کرو۔ عمرو جلدی سے اٹھے اور عمر کے پاس گئے اور کہا: السلام علیک یا امیر المؤمنین! (اے امیر المؤمنین! آپ پر سلام ہو) تو عمر نے کہا: اے ابن العاص! تمہیں اس نام کا خیال کیسے آیا ؟ تمہیں اپنی اس بات (کی وضاحت) سے نکلنا ہو گا۔ انہوں نے کہا: جی ہاں، لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم آئے ہیں، انہوں نے مجھ سے کہا: ہمارے لیے امیر المؤمنین سے اجازت طلب کرو، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! تم دونوں نے ان کا صحیح نام رکھا ہے، وہ امیر ہیں اور ہم مومن ہیں۔ چنانچہ اسی دن سے خط و کتابت میں یہ (لقب) جاری ہو گیا ۔“