❮
❯
حدیث نمبر: 750
750/970- (حسن) عن جابر بن عبد الله : أنه بلغه حديث عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فابتعت بعيراً، فشددت إليه رحلي شهراً، حتى قدمت الشام، فإذا عبد الله بن أنيس، فبعثت إليه أن جابراً بالباب، فرجع الرسول فقال: جابر بن عبد الله؟ فقلت نعم، فخرج فأعتقني، قلت حديث بلغني لم أسمعه؛ خشيت أن أموت أو تموت، قال : سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: " يحشر الله العباد – أو الناس- عراة غرلاً بهما"، قلت: ما بهما ؟ قال: "ليس معهم شيء، فيناديهم بصوت يسمعه من بَعُدَ- أحسبه قال: كما يسمعه من قرب: أنا الملك، لا ينبغي لأحد من أهل الجنة يدخل الجنة، وأحد من أهل النار يطلبه بمظلمة". ولا ينبغي لأحد من أهل النار يدخل النار، وأحد من أهل الجنة يطلبه بمظلمة". قلت: وكيف ؟ وإنما نأتي الله عراة بهما ؟ قال: " بالحسنات والسيئات".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی کے واسطے سے ایک حدیث پہنچی، (انہوں نے کہا:) تو میں نے ایک اونٹ خریدا، اس پر اپنا کجاوہ کسا اور ایک مہینہ سفر کر کے شام پہنچا۔ وہاں سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان کے پاس پیغام بھیجا کہ جابر دروازے پر ہے۔ قاصد واپس آیا اور (ان کی طرف سے) پوچھا: جابر بن عبداللہ؟ میں نے کہا: ہاں۔ تو وہ باہر نکلے اور مجھے گلے لگا لیا۔ میں نے کہا: ایک حدیث مجھے پہنچی ہے جو میں نے (براہ راست) نہیں سنی، مجھے ڈر ہوا کہ کہیں میں فوت ہو جاؤں یا آپ فوت ہو جائیں۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ بندوں — یا فرمایا: لوگوں — کو ننگے، غیر مختون اور بُہم حالت میں اکٹھا کرے گا۔“ میں نے عرض کیا: بُہم کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے پاس کچھ بھی نہ ہوگا۔ پھر (اللہ) انہیں ایسی آواز سے پکارے گا جسے دور والا بھی سنے گا — میرا خیال ہے فرمایا: جیسے قریب والا سنتا ہے —: میں بادشاہ ہوں، اہل جنت میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ جنت میں داخل ہو جبکہ اہل جہنم میں سے کوئی اس سے کسی ظلم کا مطالبہ کر رہا ہو، اور اہل جہنم میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ جہنم میں داخل ہو جبکہ اہل جنت میں سے کوئی اس سے کسی ظلم کا مطالبہ کر رہا ہو۔“ میں نے عرض کیا: یہ کیسے ہوگا؟ حالانکہ ہم تو اللہ کے پاس ننگے اور خالی ہاتھ آئیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”نیکیوں اور برائیوں کے ذریعے۔“

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 750