❮
❯
حدیث نمبر: 746
746/965 (صحيح) عن أبي موسى: أنه كان مع النبي صلى الله عليه وسلم في حائط من حيطان المدينة، وفي يد النبي صلى الله عليه وسلم عود يضرب به بين الماء والطين-(4) فجاء رجل يستفتح، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " افتح له، وبشره بالجنة" فذهبت، فإذا أبو بكر رضي الله عنه، ففتحت له، وبشرته بالجنة. ثم استفتح رجل آخر، فقال: " افتح له، وبشره بالجنة". فإذا عمر رضي الله عنه، ففتحت له، وبشرته بالجنة. ثم استفتح رجل آخر- وكان متكئاً فجلس- وقال: " افتح له، وبشره بالجنة على بلوى تصيبه، أو تكون". فذهبت، فإذا عثمان، ففتحت له، فأخبرته بالذي قال. قال: الله المستعان.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جسے آپ پانی اور کیچڑ کے درمیان مار رہے تھے۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور دروازہ کھلوانا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی بشارت دے دو۔“ میں گیا تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی بشارت دی۔ پھر ایک اور آدمی نے دروازہ کھلوانا چاہا تو آپ نے فرمایا: ”اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی بشارت دے دو۔“ تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی بشارت دی۔ پھر ایک اور آدمی نے دروازہ کھلوانا چاہا — آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے تو (سیدھے ہو کر) بیٹھ گئے — اور فرمایا: ”اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے ایک آزمائش پر جو اسے پہنچے گی یا واقع ہوگی، جنت کی بشارت دے دو۔“ میں گیا تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں وہ بات بتائی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ انہوں نے کہا: اللہ ہی مددگار ہے۔

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 746