❮
❯
حدیث نمبر: 744
744/962 (صحيح) عن جابر بن عبد الله : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر في السوق داخلاً من بعض العالية- والناس كنفيه، فمر بجدي أسك(1) [ميت]، فتناوله فأخذ بأذنه، ثم قال: "أيكم يحب أن هذا له بدرهم؟" فقالوا: ما نحب أنه لنا بشيء، وما نصنع به؟ قال: "أتحبون أنه لكم؟". قالوا: لا. (قال ذلك لهم ثلاثاً ). فقالوا: لا والله! لو كان حياً لكان عيباً فيه أنه أسك( والأسك الذي ليس له أذنان) فكيف وهو ميت؟ قال: " فوالله، للدنيا أهون على الله من هذا عليكم".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عالیہ کے کسی علاقے سے آتے ہوئے بازار سے گزرے اور لوگ آپ کے دونوں طرف تھے۔ آپ بکری کے ایک (مردہ) بچے کے پاس سے گزرے جس کے کان بہت چھوٹے تھے، آپ نے اسے اٹھایا اور اس کا کان پکڑا، پھر فرمایا: ”تم میں سے کون پسند کرے گا کہ یہ اسے ایک درہم میں مل جائے؟“ لوگوں نے عرض کیا: ہم تو اسے کسی چیز کے بدلے بھی لینا پسند نہیں کرتے، ہم اس کا کیا کریں گے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا تم پسند کرتے ہو کہ یہ تمہیں (مفت) مل جائے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ (آپ نے ان سے تین بار یہی فرمایا۔) انہوں نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا تب بھی اس میں یہ عیب تھا کہ یہ کن کٹا ہے (اور اسک وہ ہے جس کے کان نہ ہوں)، تو اب جبکہ یہ مردہ ہے (تو کیسے پسند کریں)؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنا یہ تمہارے نزدیک حقیر ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 744