❮
❯
حدیث نمبر: 729
729/947 (صحيح) عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها، قالت: ما رأيت أحداً من الناس كان أشبه بالنبي صلى الله عليه وسلم كلاماً ولا حديثاً ولا جلسة من فاطمة". قالت: وكان النبي صلى الله عليه وسلم إذا رآها قد أقبلت رحب بها، ثم قام إليها(1) فقبلها، ثم أخذ بيدها، فجاء بها حتى يجلسها في مكانه، وكانت إذا أتاها النبي صلى الله عليه وسلم رحبت به، ثم قامت إليه [فأخذت بيده/971] فقبلته. وأنها دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي قبض فيه، فرحب وقبلها، وأسر إليها، فبكت ! ثم أسرّ إليها، فضحكت! فقلت للنساء: إن كنت لأرى أن لهذه فضلاً على النساء، فإذا هي من النساء! بينما هي تبكي إذ هي تضحك! فسألتها: ما قال لك؟ قالت: إني إذاً لبَذِرة(2)! فلما قبض النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: أسر إلي، فقال: " إني ميت"، فبكيت، ثم أسرّ إليّ. فقال: " إنك أول أهلي بي لحوقاً فسررت بذلك، وأعجبني.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے لوگوں میں سے کسی کو بات چیت، گفتگو اور نشست و برخاست میں فاطمہ (رضی اللہ عنہا) سے بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ نہیں دیکھا۔ انہوں نے فرمایا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب انہیں آتے ہوئے دیکھتے تو انہیں خوش آمدید کہتے، پھر ان کی طرف اٹھ کر جاتے اور انہیں بوسہ دیتے، پھر ان کا ہاتھ پکڑتے اور انہیں لا کر اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ آپ کو خوش آمدید کہتیں، پھر آپ کی طرف اٹھ کر جاتیں (اور آپ کا ہاتھ پکڑتیں) اور آپ کو بوسہ دیتیں۔ اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی اس بیماری میں آئیں جس میں آپ کی وفات ہوئی، تو آپ نے انہیں خوش آمدید کہا اور بوسہ دیا، اور ان سے سرگوشی کی تو وہ رو پڑیں! پھر ان سے سرگوشی کی تو وہ ہنس پڑیں! میں نے عورتوں سے کہا: میں سمجھتی تھی کہ اس خاتون کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے، مگر یہ بھی (عام) عورتوں ہی جیسی ہیں! ابھی رو رہی تھیں کہ ابھی ہنسنے لگیں! میں نے ان سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: تب تو میں راز فاش کرنے والی ہوں گی! پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو انہوں نے بتایا: آپ نے مجھ سے سرگوشی کی اور فرمایا: ”میں وفات پانے والا ہوں“ تو میں رو پڑی، پھر آپ نے مجھ سے سرگوشی کی اور فرمایا: ”تم میرے گھر والوں میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملو گی“ تو میں اس سے خوش ہوئی اور یہ بات مجھے اچھی لگی۔

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 729