726/944 (صحيح) عن عبد الله بن كعب- وكان قائد كعب من بنيه حين عمي – قال: سمعت كعب بن مالك، يحدث حديثه حين تخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم عن غزوة تبوك، فتاب الله عليه: وآذن رسول الله صلى الله عليه وسلم بتوبة الله علينا حين صلى الفجر، فتلقاني الناس فوجاً فوجاً؛ يهنوني بالتوبة، يقولون: لتهنك توبة الله عليك، حتى دخلت المسجد، فإذا برسول الله صلى الله عليه وسلم حوله الناس. فقام إلي طلحة بن عبيد الله يهرول، حتى صافحني وهناني، والله ما قام إلي رجل من المهاجرين غيره، لا أنساها لطلحة.عبداللہ بن کعب سے روایت ہے — اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ جب نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں سے یہی ان کے رہنما تھے — انہوں نے کہا: میں نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے، پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ (انہوں نے کہا:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھنے کے بعد ہم پر اللہ کی طرف سے توبہ قبول ہونے کا اعلان فرمایا، تو لوگ گروہ در گروہ مجھ سے ملنے لگے اور مجھے توبہ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہتے: تمہیں اللہ کی طرف سے اپنی توبہ کی قبولیت مبارک ہو۔ یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور آپ کے اردگرد لوگ تھے۔ تو سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تیزی سے چلتے ہوئے میری طرف اٹھے، یہاں تک کہ مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارکباد دی۔ اللہ کی قسم! مہاجرین میں سے ان کے سوا کوئی آدمی میری طرف اٹھ کر نہیں آیا، میں طلحہ کی یہ بات کبھی نہیں بھولوں گا۔