❮
❯
حدیث نمبر: 700
700/906 عن أبي هريرة، قال: أخذتِ الناس الريح في طريق مكة وعمر حاجّ- فاشتدت، فقال عمر لمن حوله: "ما الريح؟" فلم يرجعوا بشيء! فاستحثثت راحلتي؛ فأدركته. فقلت: بلغني أنك سألت عن الريح؟ وإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " الريح من روح الله؛ تأتي بالرحمة، وتأتي بالعذاب فلا تسبوها، وسلوا الله خيرها، وعوذوا من شرها".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مکہ کے راستے میں لوگوں کو آندھی نے آ لیا جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حج کے لیے جا رہے تھے، وہ آندھی شدید ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اردگرد والوں سے پوچھا: ”یہ ہوا کیا ہے؟“ تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے! میں نے اپنی سواری کو تیز کیا اور ان سے جا ملا اور کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے ہوا کے بارے میں پوچھا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہوا اللہ کی رحمت میں سے ہے، یہ رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی لاتی ہے، لہٰذا اسے برا بھلا نہ کہو، اور اللہ سے اس کی بھلائی مانگو اور اس کے شر سے (اللہ کی) پناہ مانگو۔“

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 700
تخریج حدیث (حسن صحيح)