❮
❯
حدیث نمبر: 701
701/907- عن زيد بن خالد الجهني؛ أنه قال: صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح بالحديبية؛ على أثر سماء كانت من الليلة، فلما انصرف النبي صلى الله عليه وسلم أقبل على الناس، فقال: "هل تدرون ماذا قال ربكم؟". قالو: الله ورسوله أعلم. قال: "أصبح من عبادي مؤمن بي وكافر؛ فأما من قال: مطرنا بفضل الله ورحمته، فذلك مؤمن بي وكافر بالكوكب، وأما من قال: بنوء كذا وكذا، فذلك كافر بي، مؤمن بالكوكب".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی، رات کو ہونے والی بارش کے بعد۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اللہ نے فرمایا:) میرے بندوں میں سے کچھ نے مجھ پر ایمان کی حالت میں صبح کی اور کچھ نے کفر کی حالت میں۔ جس نے کہا: ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی، تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستارے کا انکار کرنے والا ہے، اور جس نے کہا: ہم پر فلاں فلاں نچھتر (ستارے) کی وجہ سے بارش ہوئی، تو وہ میرا انکار کرنے والا اور ستارے پر ایمان رکھنے والا ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 701