کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: دن اور رات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک (دوبارہ) لات اور عزیٰ کی پوجا نہ ہونے لگے
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَمِيم الأصمّ بقَنطَرَةِ بَرَدَان (3)، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثنا سُوَيد بن العلاء. وإنما هو الأسود بن العلاء؛ قد أخرج مسلمٌ عن الأسود بن العلاء. حدَّثَنيهِ محمدُ بن عبد الله الفقيه ﵀، حدثنا أبو حامد بن الشَّرْقي، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الحميد بن جعفر (4)، حدثنا الأسود بن العلاء، عن أبي سَلَمة، فذكره بنحوه. وقد حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيْباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا أبو عاصم الضَّحّاك بن مخلَد، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثنا الأسود بن العلاء، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن بن عَوْف، عن عائشة قالت: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "لا يذهبُ الليلُ والنهارُ حتى تُعبَدَ اللَّاتُ والعُزَّى، ويبعثَ الله ريحًا طيِّبًا (5)، فيَتوفَّى مَن كان في قلبِه مثقالُ حبّةٍ من خَردَلٍ من خيرٍ، فيبقى مَن لا خيرَ فيه، فيرجعون إلى دين آبائهم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”لیل و نہار اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک (دوبارہ) لات اور عزیٰ کی عبادت نہ کی جائے، پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی خیر (ایمان) ہوگا، پھر وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر نہیں ہوگی، پس وہ اپنے آباء و اجداد کے (شرکیہ) دین کی طرف لوٹ جائیں گے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ببغداد، حدثنا أحمد بن حيَّان بن مُلاعِب، حدثنا علي بن عاصم، حدثنا الجُرَيري، عن أبي نَضْرة قال: حدَّث عثمانُ بن عفان مَثَلًا للفتنة، فقال: إنما مثلُ الفتنةِ مثلُ رَهْطٍ ثلاثةٍ اصطَحَبوا (2) في سفرٍ، فساروا ليلًا، فاجتمعوا إلى مَفرِقِ ثلاثةٍ، فقال أحدهم: يَمْنةً، فأخذ يمنةً فضَلَّ الطريق، وقال الآخر: يَسْرةً، فأخذ يسرةً فضلَّ الطريق، وقال الثالث: الليلَ، أَلزَمُ مكاني حتى أُصبِحَ فآخُذَ الطريقَ (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8651 - علي بن عاصم واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8651 - علي بن عاصم واه
حافظ طلحہ بابر
ابو نضرہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فتنے کی ایک مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”فتنے کی مثال ان تین افراد کے گروہ جیسی ہے جو ایک سفر میں ساتھ نکلے، وہ رات کے وقت چلے تو ایک تراہے (تین راستوں کے مقام) پر پہنچے، ایک نے کہا: میں دائیں جانب جاتا ہوں، چنانچہ وہ دائیں طرف گیا اور راستہ بھٹک گیا، دوسرے نے کہا: میں بائیں جانب جاتا ہوں، پس وہ بائیں طرف مڑا اور راستہ بھٹک گیا، اور تیسرے نے کہا: ابھی رات کا وقت ہے، میں صبح ہونے تک اپنی جگہ پر ہی ٹھہرا رہوں گا تاکہ (روشنی میں) درست راستہ اختیار کر سکوں۔“