کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: شيطان الردهہ (ایک فتنے یا بد روح) کا تذکرہ
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي [عن سفيان] (1) عن العلاء بن أبي العبَّاس - وكان شيعيًّا - عن أبي الطُّفيل، عن بكر بن قِرْواش، سمع سعدَ بن أبي وقَّاص يقول: قال رسول الله ﷺ: "شيطانُ الرَّدْهة يَحتدِرُه (2) رجلٌ من بَجِيلةَ يقال له: الأشهب - أو ابن الأشهب - راعي الخيل - أو راعي للخيل (3) - عَلَامةٌ في القوم الظَّلَمة" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد (1)، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8588 - ما أبعده من الصحة وأنكره
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ردہہ (نامی گڑھے یا مقام) کے شیطان کو قبیلہ بجیلہ کا ایک شخص زیر کرے گا جسے اشہب — یا ابن اشہب — کہا جاتا ہوگا، وہ گھوڑوں کا چرواہا ہوگا، وہ (اس وقت کے) ظالم لوگوں کے درمیان ایک (نمایاں) علامت ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8801
درجۂ حدیث محدثین: إسناده محتمل للتحسين
تخریج حدیث «إسناده محتمل للتحسين، رجاله ثقات معروفون غير بكر بن قرواش، فقد تفرَّد بالرواية عنه أبو الطفيل عامر بن واثلة، الذي هو معدود في صغار الصحابة، فهذا يدل على أنَّ بكر بن قرواش هذا من كبار التابعين إذ لم تثبت له صحبة، ورواية مثل أبي الطفيل عنه تقوية لأمره، وذكره ابن ...» [ترقيم الرساله 8801] [ترقيم الشركة 8691] [ترقيم العلميه 8588]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتيبة القاضي، حدثنا أبو داود الطَّيالِسي، حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن منصور، عن رِبْعيِّ بن حِرَاش، عن البراء بن ناجيَة الكاهِلي، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "تدورُ رَحَا الإسلام لخمسٍ وثلاثين، أو ستٍّ وثلاثين، فإن يَهلِكوا فسبيلُ مَن هَلَك، وإن يَقُمْ لهم دينُهم يَقُمْ لهم سبعين عامًا" فقال عمر: يا رسول الله، بما مَضَى أو بما بقيَ؟ قال: "بما بَقِيَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. حديثٌ إسنادُه خارجَ شرط الكتب الثلاث (1)، أخرجتُه تعجُّبًا، إذ هو قريبٌ ممَّا نحن فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8589 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام کی چکی پینتیس یا چھتیس (سال) تک گردش کرتی رہے گی، پس اگر وہ (اہلِ اسلام) ہلاک ہو گئے تو یہ ان لوگوں کی راہ ہوگی جو (پہلے) ہلاک ہو چکے، اور اگر ان کا دین ان کے لیے برقرار رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! (ستر سال کی اس مدت میں) وہ وقت بھی شامل ہے جو گزر چکا ہے یا اس سے مراد وہ وقت ہے جو ابھی باقی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ وقت جو ابھی باقی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس حدیث کی سند کتبِ ثلاثہ کی شرط سے خارج ہے، میں نے اسے اس باب سے علمی مناسبت کی بنا پر ذکر کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8802
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل البراء بن ناجية كما سبق بيانه برقم (4599)» [ترقيم الرساله 8802] [ترقيم الشركة 8692] [ترقيم العلميه 8589]