کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کے لیے نبی کریم ﷺ کی وصیت
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزَيمة، حدثنا موسى ابن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن أبي عثمان، عن خالد بن عُرفُطةَ قال: قال لي رسول الله ﷺ: "يا خالدُ، إنه سيكون بعدي أحداثٌ وفتنٌ واختلافٌ، فإن استطعتَ أن تكون عبدَ الله المقتولَ لا القاتلَ، فافعَلْ" (1). تفرَّد به عليُّ بن زيد القُرَشي عن أبي عثمان النَّهْدي، ولم يَحتجَّا بعليٍّ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8578 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8578 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے خالد! یقیناً میرے بعد (نت نئے) حادثات، فتنے اور اختلافات پیدا ہوں گے، پس اگر تم اس بات کی استطاعت رکھو کہ تم اللہ کے وہ بندے بنو جو قتل کر دیا گیا ہو نہ کہ وہ جو قتل کرنے والا ہو، تو ایسا ہی کرنا۔“
اس حدیث کو نقل کرنے میں علی بن زید قرشی، ابو عثمان نہدی سے منفرد ہیں اور شیخین نے علی بن زید سے استدلال نہیں کیا۔
اس حدیث کو نقل کرنے میں علی بن زید قرشی، ابو عثمان نہدی سے منفرد ہیں اور شیخین نے علی بن زید سے استدلال نہیں کیا۔
أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الحافظ الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا إسحاق بن أحمد بن مِهران، حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي قال: سمعت مالكَ بن أنس يُحدِّث عن عبد الله بن عبد الله بن جابر بن عَتِيك أنه قال: جاءنا عبدُ الله بن عمرو (2) في بني معاويةَ - وهي قريةٌ من قُرى الأنصار - فقال: هل تدري أين صلَّى رسول الله ﷺ في مسجدِكم هذا؟ قال: قلت: نعم؛ وأشَرتُ له إلى ناحيةٍ منه، فقال: هل تدري ما الثلاثُ التي دعا بهنَّ فيه؟ قلت: نعم، فقال: أخبِرْني بهنَّ، فقلت: دعا بأن لا يُظهر عليهم عدوًّا من غيرهم، ولا يُهلِكَهم بالسِّنين، فأُعطِيَهما، ودعا بأن لا يَجعلَ بأْسَهم بينهم، فمُنِعَها (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8579 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8579 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن عبداللہ بن جابر بن عتیک سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بنو معاویہ (جو کہ انصار کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے) میں تشریف لائے اور پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہاری اس مسجد میں کس جگہ نماز پڑھی تھی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں؛ اور میں نے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا، پھر انہوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ تین دعائیں کون سی ہیں جو آپ ﷺ نے یہاں مانگی تھیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، تو انہوں نے کہا: مجھے ان کے بارے میں بتاؤ، میں نے عرض کیا: آپ ﷺ نے دعا فرمائی تھی کہ ان پر ان کے علاوہ (غیر قوم) میں سے کوئی دشمن غالب نہ آئے اور انہیں قحط سالی سے ہلاک نہ کیا جائے، پس یہ دونوں دعائیں قبول کر لی گئیں، اور آپ ﷺ نے دعا مانگی کہ ان کی آپس کی لڑائی (خانہ جنگی) نہ ہو، تو اس سے منع فرما دیا گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا ابن وهب، عن مَسلَمة (1) بن علي، عن قَتادة، عن ابن المسيّب، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "تكون هَدَّةٌ في شهر رمضان تُوقِظُ النائمَ، وتُفزِعُ اليقظانَ، ثم تظهرُ عِصابةٌ في شوَّال، ثم مَعمَعةٌ (2) في ذي الحِجّة، ثم تُنتَهكُ المحارمُ في المحرَّم، ثم يكون موتٌ في صَفَر، ثم تتنازع القبائلُ في ربيعٍ، ثم العَجَبُ كلُّ العجب، بين جُمادى ورَجَب، ثم ناقةٌ مُقتَبَة خيرٌ من دَسْكَرةٍ تُغِلُّ (3) مئةَ ألف (4). قد احتَجَّ الشيخان ﵄ برُوَاة هذا الحديث عن آخرهم غير مَسلَمة بن علي الخُشَني، وهو حديث غريبُ المَتْن، ومَسلَمةُ أيضًا ممَّن لا تقوم الحُجَّةُ به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8580 - ذا موضوع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8580 - ذا موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”رمضان کے مہینے میں ایک زوردار دھماکہ ہوگا جو سونے والے کو بیدار کر دے گا اور جاگنے والے کو خوفزدہ کر دے گا، پھر شوال میں ایک گروہ نمودار ہوگا، پھر ذوالحجہ میں قتل و غارت اور افراتفری ہوگی، پھر محرم میں حرمتیں پامال کی جائیں گی، پھر صفر میں اموات ہوں گی، پھر ربیع الاول و الآخر میں قبائل آپس میں جھگڑیں گے، پھر جمادی اور رجب کے درمیان بہت ہی حیران کن واقعات ہوں گے، پھر اس وقت (ایسے معاشی حالات ہوں گے کہ) ایک کجاوہ لدی ہوئی اونٹنی ایک لاکھ (درہم یا دینار) منافع دینے والے قلعے یا بستی سے بہتر ہوگی۔“
شیخین نے اس حدیث کے تمام راویوں سے استدلال کیا ہے سوائے مسلمہ بن علی خشنی کے، اور یہ حدیث متن کے اعتبار سے غریب ہے، نیز مسلمہ ان لوگوں میں سے ہے جن کی روایت سے حجت قائم نہیں ہوتی۔
شیخین نے اس حدیث کے تمام راویوں سے استدلال کیا ہے سوائے مسلمہ بن علی خشنی کے، اور یہ حدیث متن کے اعتبار سے غریب ہے، نیز مسلمہ ان لوگوں میں سے ہے جن کی روایت سے حجت قائم نہیں ہوتی۔