کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم ﷺ کا اس لشکر کے دھنسائے جانے کی خبر دینا جو بیت اللہ کا قصد کرے گا
حدثني علي بن عيسى، حدثنا مسدد بن قطن القُشَيري، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا جرير، عن عبد العزيز بن رفيع، عن عُبيد الله بن القِبْطيَّة قال: دخل الحارث بن أبي ربيعة وعبد الله بن صفوان -وأنا معهما- على أم سلمة، فسألاها عن الجيش الذي يُخسَفُ به، وكان ذلك في أيام ابن الزبير، فقالت أم سلمة: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "يَعُوذُ عائذ بالحَرَمَ، فيُبْعَثُ إليه بجيش، فإذا كانوا ببَيْداءَ من الأرض يُخسَفُ بهم" فقلتُ: يا رسول الله، كيف بمن يَخرُج كارها؟ قال: "يُخسَفُ به معهم، ولكنه يُبعث على نيَّته يوم القيامة"؛ ثم قالت: قال رسول الله ﷺ: "يعوذ عائذٌ بالبيت" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8321 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حارث بن ابی ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان ان کے پاس حاضر ہوئے - اور میں بھی ان کے ساتھ تھا - تو ان دونوں نے ان سے اس لشکر کے بارے میں سوال کیا جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، یہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے (خلافت کے) دنوں کی بات ہے، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ایک پناہ لینے والا حرم (کعبہ) میں پناہ لے گا، تو اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا، جب وہ زمین کے ایک چٹیل میدان (بیداء) میں پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس شخص کا کیا ہوگا جو (لشکر میں) ناپسندیدگی کے باوجود شامل ہوا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، لیکن قیامت کے دن وہ اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا۔“ پھر انہوں نے (ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک پناہ لینے والا بیت اللہ کی پناہ لے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے، لیکن ان دونوں نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8526
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8526] [ترقيم الشركة 8423] [ترقيم العلميه 8321]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن شَيْبان الرَّمْلي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن أُمية بن صفوان بن عبد الله بن صفوان، سمع جدَّه عبد الله بن صفوان يقول: حدثتني حَفْصة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لَيَؤُمَّنَّ هذا البيت جيشٌ يَعْزُونَه، حتى إذا كانوا ببَيداءَ من الأرض خُسِفَ بأوسطِهم، فيَتَنادَوْن أولُهم وآخرُهم، فيُخسَفُ بهم خَسْفًا لا يَنجُو إِلَّا الشَّريدُ الذي يُخبر عنهم". فقال له رجل: أشهدُ عليك ما كذبت على جدِّك، وأشهدُ على جدِّك أنه ما كذب على حفصةَ، وأشهدُ على حفصةَ أنها لم تَكذِب على النبي ﷺ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8322 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً ایک لشکر اس گھر (کعبہ) کا قصد کرے گا تاکہ اس پر حملہ کرے، یہاں تک کہ جب وہ زمین کے ایک چٹیل میدان (بیداء) میں ہوں گے تو ان کے درمیانی حصے کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، پھر ان کے اول اور آخر والے ایک دوسرے کو پکاریں گے، پھر ان سب کو اس طرح دھنسا دیا جائے گا کہ سوائے اس بھاگ نکلنے والے (بچ جانے والے) کے کوئی نہیں بچے گا جو ان کی خبر دے گا۔“ ایک شخص نے (راوی سے) کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اپنے دادا پر جھوٹ نہیں باندھا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کے دادا نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ نہیں بولا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ پر جھوٹ نہیں باندھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8527
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8527] [ترقيم الشركة 8424] [ترقيم العلميه 8322]
حدثني أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدَانَ الجَلّاب بهَمَذان - وأنا سألته - حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا عمر بن حفص بن غِيَاثَ النَّخَعي، حدثنا أَبي، عن مِسعَر، عن طلحة بن مُصرِّف، عن أبي مُسلِم الأغرِّ، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "لا تنتهي البعوثُ عن غَزْوِ بيتِ الله تعالى حتى يُخسَفَ بجيشٍ منهم" (2).
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه. ولا أعلم أحدًا حدَّث به غيرَ عمر بن حفص بن غِيَاث، تفرَّد به عنه (3) الإمام أبو حاتم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8323 - قال الذهبي صحيح غريب
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے گھر پر چڑھائی کرنے والے لشکر باز نہیں آئیں گے یہاں تک کہ ان میں سے ایک لشکر کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“
یہ حدیث غریب صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور میں نہیں جانتا کہ عمر بن حفص بن غیاث کے علاوہ کسی اور نے اسے بیان کیا ہو، امام ابو حاتم اس کی روایت میں منفرد ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8528
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8528] [ترقيم الشركة 8425] [ترقيم العلميه 8323]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن الوليد بن مَزيَد البَيروتي، حدثنا محمد بن شعيب بن شابُور، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد (1) بن جابر، أنه سمع سُلَيم بن عامر يقول: سمعت المقدادَ بن الأَسود الكِندي يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "لا يبقى على ظهر الأرض من بيت مَدَرٍ ولا وَبَرٍ إِلَّا أدخل الله عليهم كلمة الإسلام، بعِزِّ عزيزٍ أو ذُلِّ ذليل، يُعزِّهم الله فيجعلُهم من أهلِها، أو يُذلُّهم فيَدِينون (2) لها" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8324 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مقداد بن اسود کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”روئے زمین پر مٹی کا کوئی گھر (شہری) یا اون کا کوئی خیمہ (بدوی) ایسا باقی نہیں رہے گا جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ داخل نہ فرما دے، عزت والے کی عزت کے ساتھ یا ذلیل ہونے والے کی ذلت کے ساتھ؛ اللہ تعالیٰ انہیں عزت عطا فرمائے گا تو انہیں اہل اسلام میں شامل کر دے گا، یا انہیں ذلیل کرے گا تو وہ اس (دین) کے تابع ہو جائیں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8529
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8529] [ترقيم الشركة 8426] [ترقيم العلميه 8324]