کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: بے شک رسول اللہ ﷺ نے شراب کی کوئی ایک مقدار (حد) مقرر نہیں فرمائی تھی
أخبرنا محمد بن أحمد بن تَمِيم القَنْطري بها، حدَّثنا أبو قِلابة، حدَّثنا أبو عاصم، حدَّثنا ابن جُرَيج، أخبرني محمد بن علي بن رُكانة، أخبرني عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ لم يَقِتْ في الخمرِ حدًّا. قال ابن عباس: شَرِبَ رجلٌ فَسَكِرَ، فلُقِي يَمِيلُ في الفجِّ، فانطلقنا به إلى النبيِّ ﷺ، فلمَّا حاذَى بدار العبّاس انفلَتَ فدخلَ على العباس فالتَزَمَه، فذُكِرَ ذلك للنبيِّ ﷺ فضَحِكَ، وقال: "أفعَلَها؟ " ولم يأمُرْ فيه بشيءٍ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8124 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شراب پینے پر کوئی (مستقل) حد مقرر نہیں فرمائی تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی کر نشہ کر لیا، وہ راستے میں لڑکھڑاتا ہوا پایا گیا تو ہم اسے نبی کریم ﷺ کی طرف لے جانے لگے، جب وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے برابر پہنچا تو وہ (ہمارے ہاتھ سے) چھوٹ کر بھاگ گیا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے لپٹ گیا، اس بات کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ مسکرا دیے اور فرمایا: ”کیا اس نے ایسا کیا؟“ اور آپ ﷺ نے اس کے متعلق (سزا کا) کوئی حکم نہیں دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8323
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، محمَّد بن علي بن ركانة» [ترقيم الرساله 8323] [ترقيم الشركة 8224] [ترقيم العلميه 8124]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدَّثنا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي، حدَّثنا مُسدَّد، حدَّثنا عبد الوهاب، حدَّثنا أيوب، عن عبد الله بن أبي مُلَيكة، عن عُقْبة بن الحارث قال: جِيءَ بالنُّعَيمان - أو بابن النُّعْيمان - شاربًا، فأَمَرَ رسولُ الله ﷺ مَن كان في البيت أن يَضرِبَه، قال: وكنتُ أنا فيمن ضربَه، فضَرَبناه بالنِّعال والجَريد (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابع عبدُ الوارث بن سعيد عبدَ الوهاب الثقفي على وَصْله بذكر عُقبة بن الحارث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8125 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نعیمان (یا ان کے صاحبزادے) کو شراب پیے ہوئے لایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اسے ماریں، راوی کہتے ہیں کہ میں بھی اسے مارنے والوں میں شامل تھا، ہم نے اسے جوتوں اور کھجور کی ٹہنیوں سے مارا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8324
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8324] [ترقيم الشركة 8225] [ترقيم العلميه 8125]
حدَّثَناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدَّثنا يوسف بن يعقوب القاضي، حدَّثنا محمد بن أبي بكر، حدَّثنا عبد الوارث، حدَّثنا أيوب، عن ابن أبي مُلَيكة، قال: أخبرني عُقبة بن الحارث قال: جِيء بالنُّعيمان، فأمرَ رسول الله ﷺ مَن في البيت، فَضَرَبُوه بالأيدي والنِّعال، وكنت فيمن ضَرَبَه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8126 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نعیمان کو لایا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا، چنانچہ انہوں نے انہیں ہاتھوں اور جوتوں سے مارا، اور میں بھی انہیں مارنے والوں میں شامل تھا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8325
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8325] [ترقيم الشركة 8226] [ترقيم العلميه 8126]
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرَفي بمَرْو، حدَّثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدَّثنا مَكِّيُّ بن إبراهيم، حدَّثنا الجُعَيد (1) بن عبد الرحمن، عن يزيد بن خُصَيفة، عن السائب بن يزيد قال: كان يُؤتَى بالشارب في عهد رسولِ الله ﷺ وفي إمرة أبي بكر وصَدْرًا من إمرة عمر، فنقوم إليه فنضربُه بأيدينا ونعالِنا وأرديَتِنا حتى كان صَدْرًا من إمارة عمر، فجَلَدَ فيها أربعينَ، حتى إذا عاثُوا فيها وفَسَقُوا جَلَدَ فيها ثمانينَ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8127 - ذا في البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورِ خلافت میں شراب پینے والے کو لایا جاتا تو ہم اٹھ کر اسے اپنے ہاتھوں، جوتوں اور چادروں سے مارتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور کے ابتدائی حصے میں آپ نے اس پر چالیس کوڑے مقرر کیے، پھر جب لوگ اس میں حد سے بڑھ گئے اور فسق و فجور زیادہ ہوا تو آپ نے اس پر اسی کوڑے مقرر کیے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8326
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، الجعيد» [ترقيم الرساله 8326] [ترقيم الشركة 8227] [ترقيم العلميه 8127]
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدَّثنا الحارث بن أبي أسامة، حدَّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عبد الرحمن بن أزهَرَ قال: أُتي النبيُّ ﷺ بشاربٍ فقال: "قوموا إليه فاضربُوه"، فقاموا إليه فخَفَقُوه بنعالِهم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8128 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد الرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شراب پینے والے کو لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم سب اٹھ کر اسے مارو۔“ پس لوگ اس کی طرف بڑھے اور اسے اپنے جوتوں سے مارا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8327
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو» [ترقيم الرساله 8327] [ترقيم الشركة 8228] [ترقيم العلميه 8128]
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا إبراهيم بن مرزوق، حدَّثنا وهب بن جَرير، حدَّثنا شُعْبة، عن أبي التَّيّاح، عن أبي الوَدَّاك، عن أبي سعيد الخُدْري قال: لا أشربُ نبيذَ الجرِّ بعد إذ أتي النبيُّ ﷺ بنَشْوانَ، فقال: يا رسولَ الله، ما شربتُ خمرًا، لكني شربتُ نبيذَ زبيبٍ وتمرٍ في دُبَّاء، فأُمر به فبُهِزَ بالأيدي، وخُفِقَ بالنِّعال، ونَهَى عن الزَّبيب والتمر وعن الدُّبَّاء (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8129 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مٹی کے گھڑوں کا نبیذ اس وقت سے نہیں پیتا جب نبی کریم ﷺ کے پاس ایک مدہوش شخص کو لایا گیا، اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے شراب نہیں پی بلکہ میں نے کدو کے برتن میں منقے اور کھجور کا نبیذ پیا تھا، تو آپ ﷺ کے حکم پر اسے ہاتھوں سے کچوکے لگائے گئے اور جوتوں سے مارا گیا، اور آپ ﷺ نے منقہ اور کھجور کو ملا کر بھگونے اور کدو کے برتن «دباء» کے استعمال سے منع فرما دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8328
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8328] [ترقيم الشركة 8229] [ترقيم العلميه 8129]
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا بكَّار بن قُتَيبة القاضي، حدَّثنا صفوان بن عيسى القاضي، أخبرنا أسامة بن زيد، عن الزُّهْري، قال: حدثني عبد الرحمن بن أزهَرَ قال: رأيتُ رسول الله ﷺ يومَ حُنين وهو يتخلَّلُ الناس، يسألُ عن منزل خالدِ بن الوليد، فأُتِيَ بسكرانَ، فأَمر رسولُ الله ﷺ مَن كان عندَه أَن يَضربوه بما كان في أيديهم. قال: وحَثَا رسولُ الله ﷺ الترابَ في وجهه. قال: ثم أُتِيَ أبو بكر بسكرانَ، قال: فتوخَّى الذين كان مِن ضربهم يومَئِذٍ، فَضَرَبَ أربعينَ، وضَرَبَ عمرُ أربعين (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد الرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے غزوہ حنین کے دن رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی منزل کے بارے میں دریافت فرما رہے تھے، اسی دوران ایک شرابی کو لایا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس موجود لوگوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھوں میں جو کچھ بھی ہے اس کے ساتھ اسے ماریں، راوی کہتے ہیں: اور رسول اللہ ﷺ نے اس کے چہرے پر مٹی بھی ڈالی، پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شرابی لایا گیا تو انہوں نے اس دن کی مار کو مدنظر رکھتے ہوئے چالیس کوڑے لگائے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے لگائے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8329
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، فالزهري لم يسمع هذا الحديث من عبد الرحمن بن الأزهر، بينهما عبدُ الله بن عبد الرحمن بن الأزهر، وقد روى عنه غير واحد، وذكره ابن حبان في "الثقات"، فمثلُه حسن الحديث إن شاء الله، فهو تابعي ويروي الخبر عن أبيه أيضًا» [ترقيم الرساله 8329] [ترقيم الشركة 8230]
قال الزُّهْري هذا: فحدَّثني حُمَيد بن عبد الرحمن عن وَبَرة الكَلْبي قال: أرسَلَني خالدُ بن الوليد إلى عمر، فأتيتُه وهو في المسجد معه عثمانُ بن عفان وعليٌّ وعبدُ الرحمن بن عوف وطلحةُ والزُّبيرُ متَّكئون معه في المسجد، فقلت: إنَّ خالد بن الوليد أرسَلَني إليك، وهو يقرأ عليك السلامَ، ويقول: إنَّ الناس قد انهمَكُوا (1) في الخمر، وتَحاقَرُوا العقوبة. فقال عمر: هم هؤلاء عندك فسَلْهم، فقال عليٌّ: نَراه إذا سَكِرَ هَذَى، وإذا هَذَى افترى، وعلى المفتري ثمانونَ. فقال عمرُ: أبلِغْ صاحبَك ما قال. فجَلَدَ خالدٌ ثمانينَ، وجَلَدَ عمرُ ثمانينَ، فكان عمرُ إذا أُتِيَ بالرجل القوي المُنهمِك في الشُّرْب جَلَدَه ثمانينَ، وإذا أُتِي بالرجل الضعيف الذي كانت منه الزَّلّة جَلَدَه أربعين، ثم جَلَدَ عثمانُ ثمانين وأربعينَ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8131 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
وبرہ کلبی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا، میں ان کے پاس پہنچا تو وہ مسجد میں تھے اور ان کے ساتھ سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا علی، سیدنا عبد الرحمن بن عوف، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم مسجد میں تکیہ لگائے بیٹھے تھے، میں نے عرض کی: مجھے خالد بن ولید نے آپ کی طرف بھیجا ہے، وہ آپ کو سلام کہتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ لوگ شراب نوشی میں بہت زیادہ ملوث ہو گئے ہیں اور سزا کو معمولی سمجھنے لگے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ لوگ تمہارے سامنے موجود ہیں، ان سے مشورہ کر لو، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہماری رائے یہ ہے کہ ”جب وہ نشہ کرتا ہے تو ہذیان بکتا ہے، اور جب ہذیان بکتا ہے تو بہتان تراشی کرتا ہے، اور بہتان لگانے والے کی حد اسی کوڑے ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنے صاحب (خالد) کو بتا دو جو انہوں نے کہا ہے، چنانچہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگائے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی کوڑے لگائے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا معمول یہ تھا کہ جب کوئی طاقتور شخص جو شراب کا عادی ہو لایا جاتا تو اسے اسی کوڑے لگاتے اور جب کوئی کمزور شخص لایا جاتا جس سے لغزش ہو گئی ہوتی تو اسے چالیس کوڑے لگاتے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اسی اور چالیس کوڑے لگائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8330
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وَبَرة الكلبي مجهول، قال الحافظ ابن حجر في "لسان الميزان" 8/ 373 قال ابن حزم في "الإيصال": مجهول» [ترقيم الرساله 8330] [ترقيم الشركة 8231] [ترقيم العلميه 8131]