کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تہمت لگانے (قذف) کی حد کا تذکرہ
أخبرني أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدَّثنا أحمد بن موسى التَّميمي، حدَّثنا مِنْجاب بن الحارث، حدَّثنا عبد الملك بن هارون بن عَنترة، عن أبيه، عن جدِّه، عن عمرو بن العاص: أنه زار عمَّةً له، فدعت له بطعام، فأبطأَتِ الجاريةُ فقالت: ألا تَستعجِلي يا زانيةُ! فقال عمرو: سبحان الله، لقد قلتِ أمرًا عظيمًا، هل اطَّلَعتِ منها على زِنًى؟ قالت: لا والله، فقال عمرو: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "أيُّما عبدٍ أو امرأةٍ قال أو قالت لوليدِتها: يا زانيةُ، ولم تطَّلِعُ منها على زناءٍ، جلدَتْها وَليدتُها يومَ القيامة، لأنه لا حدَّ لهنَّ في الدنيا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما اتفقا في هذا الباب على حديث عبد الرحمن بن أبي نُعْم (2)، عن أبي هريرة: "مَن قَذَفَ مملوكَه بالزِّنى، أُقيم عليه الحدُّ يومَ القيامة" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8108 - بل عبد الملك بن هارون متروك باتفاق حتى قيل فيه دجال
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی ایک پھوپھی کی زیارت کی، انہوں نے کھانا طلب کیا تو خادمہ نے آنے میں دیر کر دی، اس پر ان کی پھوپھی نے کہا: اے زانیہ! تو جلدی کیوں نہیں کرتی؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سبحان اللہ! آپ نے بہت سنگین بات کہی ہے، کیا آپ نے اسے زنا کرتے دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم، نہیں! تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس کسی مرد یا عورت نے اپنی خادمہ کو ”اے زانیہ“ کہا جبکہ اس نے اس سے بدکاری کا صدور ہوتے نہ دیکھا ہو، تو قیامت کے دن وہ خادمہ اسے کوڑے مارے گی، کیونکہ دنیا میں ان (غلاموں اور لونڈیوں) کے لیے (قذف کی) کوئی حد نہیں ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ انہوں نے اس باب میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ: ”جس نے اپنے غلام پر زنا کی تہمت لگائی، اس پر قیامت کے دن حد قائم کی جائے گی۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8307
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف
تخریج حدیث «إسناده تالف، ابن أبي دارم» [ترقيم الرساله 8307] [ترقيم الشركة 8208] [ترقيم العلميه 8108]
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا الرَّبيع بن سليمان، حدَّثنا أسَد بن موسى، حدَّثنا مسلم بن خالد، حدَّثنا أبو حازم، حدثني سهل بن سعد صاحبُ رسول الله ﷺ: أنَّ رجلًا من أسلم جاء النبيَّ ﷺ، فقال: إنه زَنَى بامرأة، سمَّاها وأنكَرَت، فحَدَّه وتركَها (4). هذا إسناد صحيح، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8109 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بتایا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ بدکاری کی ہے، اس نے اس عورت کا نام بھی لیا لیکن اس عورت نے (اس فعل سے) انکار کر دیا، تو آپ ﷺ نے اس مرد پر حد قائم کی اور اس عورت کو چھوڑ دیا۔
یہ سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8308
درجۂ حدیث محدثین: حديث قوي
تخریج حدیث «حديث قوي، وهذا إسناد ضعيف من أجل مسلم بن خالد» [ترقيم الرساله 8308] [ترقيم الشركة 8209] [ترقيم العلميه 8109]
ما حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدَّثنا موسى بن هارون البُنِّي (1)، حدَّثنا هشام بن يوسف، حدَّثنا القاسم بن فيَّاض الأَبْناوي (1)، عن خلَّاد بن عبد الرحمن، عن سعيد بن المسيب، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا من بني بكر بن ليث أتى النبيَّ ﷺ، فأقرَّ أنه زَنَى بامرأةٍ أربع مرارٍ، فَجُلِد مئةً، وكان بكرًا، ثم سأله البيِّنةَ على المرأة، فقالت المرأةُ: كذَبَ والله يا رسول الله، فجلدَه حدَّ الفِرْية ثمانين (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8110 - القاسم بن فياض ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو بکر بن لیث کا ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور چار مرتبہ اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ بدکاری کی ہے، چونکہ وہ کنوارا تھا اس لیے اسے سو کوڑے لگائے گئے، پھر اس نے اس عورت کے خلاف ثبوت کا مطالبہ کیا تو اس عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، اس نے جھوٹ بولا ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے اس شخص کو تہمت لگانے کی پاداش میں «حد الفِرية» (تہمت کی حد) کے طور پر اسی کوڑے لگائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8309
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف بمرّة من أجل القاسم بن فياض الأبناوي
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بمرّة من أجل القاسم بن فياض الأبناوي، وقال النسائي عن حديثه هذا: منكر، وبه أعله الذهبي في "التلخيص"» [ترقيم الرساله 8309] [ترقيم الشركة 8210] [ترقيم العلميه 8110]
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدَّثنا أبو حاتم الرازي، حدَّثنا سعيدٌ بن الرَّبيع، حدَّثنا هشام بن حسّان، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ هلال بن أُميّة قَذَفَ امرأته عند النبيِّ ﷺ بشَريك بن سَحْماء، فقال رسول الله ﷺ: "البيِّنةُ أو حَدٌّ في ظَهرِك" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8111 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہلال بن امیہ نے نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ بدکاری کی تہمت لگائی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ثبوت پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد (کوڑے) لگائی جائے گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8310
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8310] [ترقيم الشركة 8211] [ترقيم العلميه 8111]