کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: بے شک خالہ ماں کے درجے میں ہے
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفان العامري، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن هانئ وهُبَيرة (1) ابن يَرِيم، عن عليّ قال: قال رسول الله ﷺ: "دَعُوا الجاريةَ مع خالتِها، فإنَّ الخالةَ أمٌّ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8003 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بچی کو اس کی خالہ کے سپرد کر دو، کیونکہ خالہ ماں کی مانند ہوتی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفرائض / حدیث: 8202
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل هانئ بن هانئ وهُبيرة بن يَرِيم، فهما صدوقان حسنا الحديث، وبمتابعة أحدهما للآخر يصح الحديث» [ترقيم الرساله 8202] [ترقيم الشركة 8102] [ترقيم العلميه 8003]
أخبرنا أبو عبد الله الشَّيباني وأبو يحيى السَّمَر قندي، قالا: حدثنا محمد بن نصر الإمام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا مَخْلَد بن يزيد الجَزَري، عن ابن جُرَيج، عن عمرو بن مُسلِم، عن طاووس، عن عائشة، عن رسول الله ﷺ قال: "اللهُ ورسوله مَولَى مَن لا مَولى له، والخالُ وارثُ مَن لا وارثَ له" (3)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8004 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اور اس کا رسول اس کے سرپرست ہیں جس کا کوئی سرپرست نہ ہو، اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفرائض / حدیث: 8203
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عمرو بن مسلم» [ترقيم الرساله 8203] [ترقيم الشركة 8103] [ترقيم العلميه 8004]
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، حدثنا محمد بن صَدَقة الفَدَكي، حدثنا ابن أبي الزِّناد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه قال: قال الزُّبير بن العوّام فينا نَزَلت هذه الآية: ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ﴾ [الأحزاب: 6]، قال: كان رسولُ الله ﷺ قد آخَى بين رجلٍ من المهاجرين ورجل من الأنصار، فلم أشُكَّ أنّا نتوارثُ لو هَلَكَ كعبٌ وليس له مَن يَرِثُه، فظننتُ أني أرثُه، ولو هلكتُ كذلك يَرِثُني، حتى نزلت هذه الآية: ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ﴾ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8005 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے متعلق یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ﴾ [سورة الأحزاب: 6] ”اور اللہ کی کتاب میں رشتہ دار ایک دوسرے کے (بہ نسبت دوسروں کے) زیادہ حقدار ہیں۔“ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہاجر اور ایک انصاری کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تھا، تو مجھے اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ اگر کعب فوت ہو جائے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو تو ہم ایک دوسرے کے وارث بنیں گے، میرا یہی گمان تھا کہ میں اس کا وارث ہوں گا اور اگر میں مر گیا تو وہ میرا وارث ہوگا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ﴾ ”اور رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفرائض / حدیث: 8204
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل ابن أبي الزناد: وهو عبد الرحمن» [ترقيم الرساله 8204] [ترقيم الشركة 8104] [ترقيم العلميه 8005]