کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں لے جانے والی چیزیں تقویٰ اور حسنِ اخلاق ہیں
حدثنا أبو بكر محمد بن داود، الزاهد، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا سهل بن عثمان، حدثنا عبد الله بن إدريس، عن أبيه، عن جدِّه، عن أبي هريرة قال: سُئل النبيُّ ﷺ عن أكثرِ ما يُدخِل الناسَ الجنَّةَ، قال: "التقوى وحُسْنُ الخُلُق، وسُئل عن أكثرِ ما يُدخِلُ الناسَ النَّارَ، فقال: "الأجْوَفانِ": الفمُ والفَرْجُ" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7919 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے ان اعمال کے بارے میں پوچھا گیا جو لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کریں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا تقویٰ اور حسنِ اخلاق۔“ اور آپ ﷺ سے ان چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا جو لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں لے جائیں گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو کھوکھلی چیزیں: منہ اور شرمگاہ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8117
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل جدِّ عبد الله بن إدريس» [ترقيم الرساله 8117] [ترقيم الشركة 8018] [ترقيم العلميه 7919]
حدثنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا قيس بن أُنيف، حدثنا قُتيبة، حدثنا أبو عَوَانة، عن سِمَاك، عن النُّعمان بن بَشير؛ قال سِماكٌ: سمعتُ النُّعمانَ وهو على المنبر يقول: قد كان رسولُ الله ﷺ لا يَجِدُ ما يَملأُ بطنَه من الدَّقَل وهو جائع (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7920 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ منبر پر (خطبہ دیتے ہوئے) فرما رہے تھے: رسول اللہ ﷺ بھوک کی حالت میں (بسا اوقات) اپنے پیٹ کو بھرنے کے لیے گھٹیا درجے کی کھجوریں بھی نہیں پاتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8118
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل سماك» [ترقيم الرساله 8118] [ترقيم الشركة 8019] [ترقيم العلميه 7920]