کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اللہ کے ذکر کی فضیلت کا تذکرہ
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نصر، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن أبي الخير، عن عُقبة بن عامر الجُهَني، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "ما من عملِ يومٍ إِلَّا وهو يُختَمُ عليه، ولا ليلةٍ إِلَّا وهو يُختَم عليها، حتَّى إذا حِيلَ بينَ العبد وبينَ العمل، قالت الحَفَظَةُ: يا ربَّنا، هذا عملُ عبدك قبل أن يُحالَ بينَه وبينَ العمل، وأنت أعلمُ به" (2). قال عمرو: حدَّثني عبد الكريم، عن يزيد بن أبي حبيب، عن أبي الخير، عن عُقبة بن عامر: إِنَّ أول من يعلمُ بموتِ العبد الخافرُ، لأنَّهُ يَعرُجُ بعملِه وينزلُ برزقِه، فإذا لم يخرج رِزْقٌ عَلِمَ أَنَّه ميّت (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7669 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دن کا کوئی بھی عمل ایسا نہیں ہے جس پر مہر نہ لگائی جاتی ہو، اور نہ ہی کوئی رات ایسی ہے جس کے عمل پر مہر نہ لگائی جاتی ہو، یہاں تک کہ جب بندے اور اس کے عمل کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جاتی ہے، تو حفاظت کرنے والے فرشتے عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! یہ تیرے بندے کا وہ عمل ہے جو موت سے پہلے کا ہے، اور تو اسے ہم سے بہتر جانتا ہے۔“ عمرو کہتے ہیں کہ بندے کی موت کی خبر سب سے پہلے حفاظت کرنے والے فرشتے کو ہوتی ہے کیونکہ وہ اس کا عمل لے کر اوپر چڑھتا ہے اور اس کا رزق لے کر نیچے اترتا ہے، پس جب رزق کا آنا بند ہو جاتا ہے تو وہ جان جاتا ہے کہ وہ فوت ہو گیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7862
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7862] [ترقيم الشركة 7768] [ترقيم العلميه 7669]
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني الحافظ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن عبد الله السَّعدي، حَدَّثَنَا بشر بن عمر الزَّهراني، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن أبي سلمة، عن محمد بن المُنكدر، قال: التقَى عبدُ الله بن عباس وعبد الله بن عمرو بن العاص، فقال له عبد الله بن عباس: أيُّ آيةٍ في كتاب الله أرجَى عندَك؟ فقال عبد الله بن عمرو: ﴿يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾ [الزمر: 53]، فقال: لكن قول إبراهيم: ﴿قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾ [البقرة: 260] هذا لما في الصُّدور، ويُوسوِسُ به الشيطانُ، فرضيَ اللهُ تعالى من قولِ إبراهيمَ بقوله: ﴿أَوَلَمْ تُؤْمِن﴾ يريدُ: ﴿قَالَ بَلَى﴾ (1) (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7670 - فيه انقطاع
حافظ طلحہ بابر
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کی ملاقات ہوئی، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: آپ کے نزدیک کتاب اللہ کی سب سے زیادہ امید افزا آیت کون سی ہے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ﴿لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾ [سورة الزمر: 53]، تو ابن عباس نے فرمایا: لیکن میرے نزدیک سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا یہ قول ہے: ﴿قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾ [سورة البقرة: 260]، یہ ان وسوسوں کے لیے ہے جو دلوں میں پیدا ہوتے ہیں اور شیطان جن کے ذریعے بہکاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے جواب ﴿قَالَ بَلَى﴾ پر اپنی رضا کا اظہار فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7863
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات، لكن محمد بن المنكدر لم يشهد القصة كما سلف بيانه عند الرواية (199)، لذلك أعلَّه الذهبي بالانقطاع» [ترقيم الرساله 7863] [ترقيم الشركة 7769] [ترقيم العلميه 7670]