کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم ﷺ نے ٹوٹے ہوئے سینگ اور کٹے ہوئے کان والے جانور کی قربانی سے منع فرمایا
أخبرنا عبد الله بن إسحاق بن الخُراساني العَدْل ببغداد، حدثنا أحمد بن حيَّان بن مُلاعِب، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شُعْبة وسعيد، عن قَتَادة قال: سمعتُ جُرَيَّ بن كُلَيب، رجلًا منهم، عن علي بن أبي طالب: أنَّ النبي ﷺ نهى أن يُضحَّى بأعضَبِ القَرْنِ والأُذن. قال قَتَادة: وذكرتُ ذلك لسعيد بن المسيّب، قال: العَضَبُ النِّصْفُ فما فوقَ ذلك (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7530 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے جس کے سینگ یا کان جڑ سے ٹوٹے ہوئے یا کٹے ہوئے ہوں۔ قتادہ نے کہا: میں نے اس کا ذکر سعید بن مسیب سے کیا تو انہوں نے فرمایا: «عضب» سے مراد آدھا یا اس سے زیادہ (ٹوٹا ہوا یا کٹا ہوا) ہونا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7720
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف كما بيّناه مفصلًا فيما سلف برقم (1737)» [ترقيم الرساله 7720] [ترقيم الشركة 7628] [ترقيم العلميه 7530]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو بكر بن عيّاش، حدثنا أبو إسحاق، عن شُريح بن النُّعمان، عن علي بن أبي طالب قال: نهى رسولُ الله ﷺ أن يُضحَّى بمُقابَلَةٍ ومُدابَرَةٍ أو شَرْقاءَ أو خَرْقاءَ أو جَدْعاء (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7531 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا جس کا کان آگے سے کٹا ہو «مُقَابَلَةٍ»، یا پیچھے سے کٹا ہو «مُدَابَرَةٍ»، یا لمبائی میں پھٹا ہوا ہو «شَرْقَاءَ»، یا اس میں گول سوراخ ہو «خَرْقَاءَ»، یا جس کا کان جڑ سے کٹا ہوا ہو «جَدْعَاءَ»۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7721
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وسيأتي الكلام على إسناده في الحديث الذي يليه» [ترقيم الرساله 7721] [ترقيم الشركة 7629] [ترقيم العلميه 7531]