کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: پگڑی باندھا کرو، اس سے تمہارے حلم (بردباری) میں اضافہ ہوگا
حدثنا أبو محمد أحمد (2) بن عبد الله المُزَني، حدثنا أبو خَليفة القاضي، حدثنا أبو الوليد، حدثنا عبيد الله بن أبي حُميد، عن أبي المَلِيح بن أسامة (3)، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "اعتَمُّوا تزدادُوا حِلْمًا" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عمامے پہنا کرو، (اس سے) تمہاری بردباری (حلم) میں اضافہ ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب اللباس / حدیث: 7599
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًا، منكر، عبيد الله بن أبي حميد متروك الحديث» [ترقيم الرساله 7599] [ترقيم الشركة 7507]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عبد الله بن عمر، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، عن عائشة أنها قالت: رأيتُ رجلًا يوم الخندق على صورة دِحْية ابن خَليفة الكَلْبي على دابَّةٍ يُناجي رسولَ الله ﷺ، وعلى رأسه عِمامةٌ قد أسدَلَها عليه، فسألت رسولَ الله ﷺ قال: "فإنَّ ذلك جبريلُ ﵇ أمَرَني أن أَخرجَ إلى بني قُريَظةَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7412 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے غزوہ خندق کے دن ایک شخص کو دِحیہ بن خلیفہ کلبی کی مشابہت میں ایک سواری پر سوار دیکھا جو رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کر رہا تھا، اور اس کے سر پر عمامہ تھا جس کا ایک پلو اس نے اپنے چہرے یا کندھوں پر لٹکایا ہوا تھا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، انہوں نے مجھے بنو قریظہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب اللباس / حدیث: 7600
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن عمر: وهو ابن حفص العُمري، عبد الرحمن بن القاسم: هو ابن محمد بن أبي بكر الصديق» [ترقيم الرساله 7600] [ترقيم الشركة 7508] [ترقيم العلميه 7412]
وقد حدَّثَناه أحمد بن سَلْمان (1) الفقيه، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا عبد الله بن عمر، عن أخيه، عن القاسم بن محمد، عن عائشة: أنَّ رجلًا أتى النبيَّ ﷺ على بِرْذَون عليه عِمامةٌ قد أَرْخَى طرفها بين كَتِفَيه، فسألتُ النبيَّ ﷺ، فقال: "رأيته؟ ذاكِ جبريلُ ﵇" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر حاضر ہوا، اس نے عمامہ باندھ رکھا تھا جس کا ایک پلو اس نے اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا، میں نے نبی کریم ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھا؟ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب اللباس / حدیث: 7601
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد كسابقه» [ترقيم الرساله 7601] [ترقيم الشركة 7509]
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، أخبرنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن الأعمش، عن جامع ابن شدَّاد، عن كُلْثوم الخُزَاعي، عن أسامة بن زيد قال: دَخَلْنا على رسول الله ﷺ نعودُه وهو مريض، فوجدناه نائمًا قد غطَّى وجهَه ببُرْدٍ عَدَني، فكشف عن وجهِه ثم قال: "لَعَنَ اللهُ اليهودَ يُحرِّمون شُحومَ الغنم، ويأكلون أثمانَها" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7414 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کی عیادت کے لیے آپ کے پاس حاضر ہوئے جبکہ آپ علیل تھے، ہم نے آپ کو استراحت فرماتے ہوئے پایا اور آپ نے اپنے چہرہ مبارک کو عدنی چادر سے ڈھانپا ہوا تھا، آپ ﷺ نے اپنے چہرے سے چادر ہٹائی پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے، وہ بھیڑوں کی چربی کو (خود پر) حرام قرار دیتے ہیں اور (اسے فروخت کر کے) اس کی قیمت کھاتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب اللباس / حدیث: 7602
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل كلثوم الخزاعي، فقد روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد اختلف في اسم أبيه وفي كونه رجلًا واحدًا أو اثنين، وذكره بعضهم في الصحابة، ووثقه ابن حجر في "التقريب"» [ترقيم الرساله 7602] [ترقيم الشركة 7510] [ترقيم العلميه 7414]