حدیث نمبر: 7601
وقد حدَّثَناه أحمد بن سَلْمان (1) الفقيه، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا عبد الله بن عمر، عن أخيه، عن القاسم بن محمد، عن عائشة: أنَّ رجلًا أتى النبيَّ ﷺ على بِرْذَون عليه عِمامةٌ قد أَرْخَى طرفها بين كَتِفَيه، فسألتُ النبيَّ ﷺ، فقال: "رأيته؟ ذاكِ جبريلُ ﵇" (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر حاضر ہوا، اس نے عمامہ باندھ رکھا تھا جس کا ایک پلو اس نے اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا، میں نے نبی کریم ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھا؟ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب اللباس / حدیث: 7601
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد كسابقه» [ترقيم الرساله 7601] [ترقيم الشركة 7509]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: سليمان.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں نام تحریف ہو کر "سلیمان" لکھا گیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد كسابقه.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند متابعات و شواہد میں پچھلی روایت کی طرح "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25186) عن روح بن عبادة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد [42/ (25186)] نے روح بن عبادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
البِرذَون: يطلق على غير العربي من الخيل والبغال، عظيم الخِلقة، غليظ الأعضاء، قوي الأرجل، عظيم الحوافر.
نوٹ / توضیح: "البرذون" (ترکی گھوڑا): یہ لفظ غیر عربی نسل کے گھوڑوں اور خچروں پر بولا جاتا ہے جو بھاری جسامت، موٹے اعضاء، مضبوط ٹانگوں اور بڑے کھروں والے ہوتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7601 سے ماخوذ ہے۔