کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: شوہر کا بیوی پر ایک خاص حق اور تعلق ہوتا ہے
أخبرنا أبو جعفر بن عُبيدٍ الحافظ وعَبْدانُ بن يزيد الدقَّاق بهَمَذان، قالا: حدَّثنا إبراهيم بن الحسين، حدَّثنا إسحاق بن محمد بن إسماعيل الفَرْوي، حدَّثنا عبد الله بن عمر، عن أخيه عبيد الله بن عمر، عن إبراهيم بن محمد بن عبد الله بن جَحْش، عن أبيه، عن حَمْنة بنت جحش: أنها قيل لها: قُتِلَ أخوك، قالت: ﵀، إنا لله وإنا إليه راجعون، فقيل لها: قُتِلَ خالُك حمزةُ، فقالت: إنَّا لله وإنا إليه راجعون، فقيل لها: قُتِلَ زوجُك، قالت: واحَرْباهُ (1)، فقال رسول الله ﷺ: "إِنَّ للزوج من المرأة لشُعبة ما هي لشيءٍ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6906 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ان سے کہا گیا کہ تمہارا بھائی شہید ہو گیا ہے، تو انہوں نے کہا: اللہ ان پر رحم فرمائے، «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں“، پھر ان سے کہا گیا کہ تمہارے ماموں حمزہ (رضی اللہ عنہ) شہید ہو گئے ہیں، تو انہوں نے کہا: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ»، پھر جب ان سے کہا گیا کہ تمہارے شوہر شہید ہو گئے ہیں، تو انہوں نے (تڑپ کر) کہا: ”ہائے افسوس! (واحرباہ)“، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک عورت کے دل میں شوہر کے لیے وہ جگہ ہے جو کسی اور کے لیے نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7081
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف إسحاق الفروي وعبد الله بن عمر: وهو ابن حفص العُمري.» [ترقيم الرساله 7081] [ترقيم الشركة 7001] [ترقيم العلميه 6906]
أخبرني عبد العزيز بن عبد الرحمن الدبَّاس بمكة، حدَّثنا محمد بن علي بن زيد الصائغ، حدَّثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدَّثنا عمر بن عثمان التَّيْمي (2)، عن أبيه، عن ابن شِهاب، أخبرني عُرْوة، أنَّ عائشة أخبرته: أَنَّ أَمَّ حَبيبةَ بنت جَحْش - وهي امرأةُ عبد الرحمن بن عوف، وهي أختُ زينبَ بنتِ جَحْش زوج النبيِّ ﷺ - جاءت رسولَ الله ﷺ، فحدَّثته: أنها استُحيضت سبعَ سنين، فاستفتَته في ذلك، فقال النبي ﷺ: "إنَّ هذه ليست بالحَيْضة، لكن هذا عِرْقُ، فاغتسِلي ثم صلِّي"، فكانت تغتسلُ في مِرْكَنٍ حتى تعلوَ الماءَ حُمْرةُ الدَّم، ثم تقومُ فتُصلِّي (1). ذكرُ فاطمةَ بنت أبي حُبيش وهي من بني أَسَد (2) بن عبد العُزَّى، وهي خالة عبد الله بن أبي مُلَيكة المكي، ﵂.
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش (جو عبدالرحمن بن عوف کی زوجہ اور ام المومنین زینب بنت جحش کی بہن تھیں) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور بتایا کہ انہیں سات سال سے استحاضہ (خونِ بیماری) کی شکایت ہے، انہوں نے اس بارے میں فتویٰ طلب کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے بلکہ ایک رگ (کا خون) ہے، پس تم غسل کرو اور نماز پڑھو“، چنانچہ وہ ایک لگن (ٹب) میں غسل کرتیں یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی پر غالب آ جاتی، پھر وہ کھڑی ہوتیں اور نماز ادا کرتیں۔
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کا تذکرہ، جن کا تعلق بنو اسد بن عبدالعزیٰ سے ہے اور وہ مکہ کے امام ابن ابی ملیکہ کی خالہ ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7082
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن. عمر بن عثمان: هو ابن عمر بن موسى بن عبيد الله بن معمر التيمي.» [ترقيم الرساله 7082] [ترقيم الشركة 7002]