کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر جو رسول اللہ ﷺ کے غلام تھے اور ان کے نام کی وجہ
أخبرنا محمد بن علي الشيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري (ح) وحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز؛ قالا: حدثنا أبو نُعيم، حدثنا حَشْرج بن نُباتة، قال: [حدثني سعيد بن جُمْهان، قال] (2): سألتُ سَفينةَ عن اسمه، فقال: أمَا إني مُخبرُك باسمي، كان اسمي قيسًا فسمَّاني رسولُ الله ﷺ سفينةَ، قلت: لِمَ سمَّاك سفينةَ؟ قال: خرج ومعه أصحابُه فثَقُل عليهم متاعُهم، فقال: "ابسُط كساءَك" فبسطتُه، فجعلَ فيه متاعَهم، ثم حمله عليَّ، فقال: "احمِلْ، ما أنت إلَّا سَفينةٌ"، فقال: لو حملتُ يومَئذ وِقْرَ بعيرٍ أو بعيرينِ أو خمسةٍ أو ستةٍ ما ثَقُل عليَّ (3). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6548 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6548 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے ان کے نام کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ میرا نام قیس تھا لیکن رسول اللہ ﷺ نے میرا نام ”سفینہ“ (کشتی) رکھ دیا، ان سے پوچھا گیا کہ آپ ﷺ نے آپ کا نام سفینہ کیوں رکھا؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ہمراہ سفر پر نکلے تو ان کا سامان ان پر بوجھل ہو گیا، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اپنی چادر بچھاؤ“ میں نے چادر بچھا دی، آپ ﷺ نے اس میں ان سب کا سامان رکھ دیا، پھر اسے مجھ پر لاد دیا اور فرمایا: ”اسے اٹھاؤ، تم تو ایک کشتی (سفینہ) ہو“، سفینہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس دن کے بعد اگر مجھ پر ایک، دو یا پانچ چھ اونٹوں کا بوجھ بھی لاد دیا جاتا تو وہ مجھ پر بوجھل نہ ہوتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
وحدثنا بذكر كُنية سَفِينة أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد ابن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا إسماعيل بن مَسْلَمة بن قَعْنب، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أبي حفص سعيد بن جُمْهان، عن سفينةَ أبي عبد الرحمن، قال: أعتقَتْني أمُّ سلمة واشترطَت علي أن أخدُمَ النبيَّ ﷺ ما عاش (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6549 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6549 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سفینہ ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے اس شرط پر آزاد کیا تھا کہ جب تک رسول اللہ ﷺ حیات ہیں میں آپ ﷺ کی خدمت کروں گا۔