حدثني أبو زُرْعةَ الرازي، حَدَّثَنَا بكر بن أحمد بن حَفْص، حَدَّثَنَا محمد بن العبّاس الصَّيدَلاني، حَدَّثَنَا أبو مروان عبدُ الملك بن صالح القُرَشي، حَدَّثَنَا صالح بن قُدَامة، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: المِدادُ في ثوب طالبِ العِلْم مثلُ الخَلُوق في صدر الجارية البِكْر (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6168 - سنده واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6168 - سنده واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”طالبِ علم کے کپڑوں پر سیاہی کا دھبہ ایسا ہی ہے جیسے کنواری لڑکی کے سینے پر خوشبو کا نشان ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابن لَهِيعة، عن عُبيد الله بن أبي جعفر، عن الفضل بن الحسن بن عمرو بن أُمَيَّة الضَّمْري، عن أبيه قال: حدَّثتُ عن أبي هريرة بحديث فأنكَرَه، فقلت: إني قد سمعتُه منك، قال: إن كنتَ سمعتَه مني فإنه مكتوبٌ عندي، فأَخذ بيدي إلى بيته، فأَراني كتبًا من كُتبِه من حديث رسول الله ﷺ، فَوَجَدَ ذلك الحديث، فقال: قد أخبرتُك إني إن كنت حدَّثتُك به فهو مكتوبٌ عندي (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6169 - هذا منكر لم يصح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6169 - هذا منكر لم يصح
حافظ طلحہ بابر
فضل بن حسن بن عمرو بن امیہ ضمری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث بیان کی تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا، میں نے کہا کہ میں نے یہ آپ ہی سے سنی ہے، انہوں نے فرمایا: ”اگر تم نے یہ مجھ سے سنی ہے تو وہ میرے پاس لکھی ہوئی ہوگی،“ پھر وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور مجھے رسول اللہ ﷺ کی احادیث پر مشتمل اپنی کتابوں میں سے کچھ کتابیں دکھائیں، پس انہیں وہ حدیث مل گئی، تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ اگر میں نے تمہیں یہ حدیث سنائی ہے تو وہ میرے پاس لکھی ہوئی موجود ہوگی۔“
أخبرني أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا عمرو بن عثمان، حَدَّثَنَا بقيَّة، عن سليمان الأنصاري، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرة قال: إذا سمعتَ في الحديث: كان يقول (2)، فهو رسول الله ﷺ (3).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تم حدیث میں یہ سنو کہ ”وہ کہا کرتے تھے“ تو اس سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔“